اسرائیل کی تجویز کردہ امدادی منصوبہ بندی ناکام ہوگی:انروا کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں انسانی امداد لے کر چند ٹرکوں کے داخلے کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کی ریلیف ایجنسی "انروا" نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ امدادی منصوبہ مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔

"انروا" کے کمشنر جنرل فلیپ لازارینی نے فیس بک پر جاری ایک بیان میں کہاکہ "کوئی بھی انسان دوست تنظیم جو بنیادی اصولوں کی پاسداری کرتی ہو، اس منصوبے پر عمل درآمد کی پابند نہیں ہو سکتی"۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ ماڈل قابلِ عمل نہیں کیونکہ اس کا مقصد انسانی ہمدردی نہیں بلکہ ایک فوجی ہدف کی معاونت ہے"۔

راستے غیرمحفوظ، صورتحال سنگین

العربیہ/الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے "انروا" نے بتایا کہ وہ راستے جن سے اسرائیل کی فوج امداد داخل ہونے دیتی ہے محفوظ نہیں سمجھے جاتے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے جمعے کے روز کہا کہ "فلسطینی عوام اس وقت اس تنازع کی سب سے زیادہ وحشیانہ صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں"۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جب اسرائیل نے امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی تو ان میں سے 15 ٹرک لوٹ لیے گئے۔ ان کے مطابق کُل 400 ٹرکوں میں سے صرف 115 کے سامان کی تقسیم ممکن ہو سکی۔

خیال رہے کہ دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد پیر کے روز پہلی بار امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے۔

فوجی مراکز سے تقسیم پر تنقید

ادھر اسرائیل امدادی سامان کی تقسیم کے لیے ایک ایسا نیا نظام لانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں امداد فوج کے کنٹرول والے مراکز سے تقسیم کی جائے گی۔ اس اقدام پر اقوامِ متحدہ اور کئی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کے باعث معذور افراد، بزرگ شہریوں اور دیگر کمزور طبقات کو امداد تک رسائی میں شدید مشکلات پیش آئیں گی۔

عالمی ادارہ برائے خوراک (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تقریباً دو کروڑ فلسطینی باشندے شدید بھوک اور قحط کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں