اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں حماس سے معاہدے پر اتفاق رائے: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی چینل 12 کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے پر پہنچنے کے امکان پر اسرائیل کے سکیورٹی اداروں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

یہ اتفاق رائے وزیر اعظم نیتن یاہو کے سخت موقف اور دوحہ سے مذاکراتی وفد کو واپس بلانے کے باوجود ہے باقی ہے۔

معاہدہ کرنا ہوگا

ہفتہ کو ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی چیف آف سٹاف ایال زامیر نے بند کمرہ ملاقاتوں میں کہا کہ فوجی دباؤ نے یرغمالیوں کی واپسی کے لیے سازگار حالات پیدا کیے ہیں۔

انہوں نے زور دیا ہے کہ اسرائیل کو ڈیل کی طرف بڑھنے کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو استعمال کرنا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق زامیر کے یہ بیانات نیتن یاہو کے دوحہ سے اسرائیلی وفد کو واپس بلانے کے فیصلے اور ان کے عوامی بیانات میں سختی کے ساتھ ساتھ سامنے آئے۔ یہ بھی تصدیق کی گئی کہ اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں اس وقت ڈیل تک پہنچنے کے امکان پر اتفاق رائے ہے۔

یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ جمعرات کو دوحہ سے اسرائیلی مذاکراتی وفد کے تمام ارکان کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کا فیصلہ حماس کے رہنما خلیل الحیہ کے اس اصرار کی وجہ سے تھا کہ ڈیل کے حصے کے طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے ضمانتیں حاصل کی جائیں۔

نیتن یاہو نے گزشتہ منگل کو دوحہ میں تقریباً ایک ہفتے سے موجود اسرائیلی وفد کے سینئر اراکین کو واپس بلانے اور صرف تکنیکی عملے کو رہنے دینے کی ہدایت کی تھی اس کے بعد جمعرات کو وفد کے باقی ارکان کو بھی واپس بلانے کا حکم دے دیا تھا۔

24 اسرائیلی قیدی

واضح رہے دوحہ بھیجے گئے اسرائیلی وفد میں فوج، جنرل سیکیورٹی سروس (شاباک) اور نیتن یاہو کے دفتر کے حکام شامل تھے۔ اگرچہ نیتن یاہو نے گزشتہ بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں حماس کے ساتھ جنگ بندی تک پہنچنے کی اپنے ملک کی خواہش پر زور دیا تھا لیکن انہوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ یہ جنگ بندی عارضی ہونی چاہیے۔ اسے حماس نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی اندازوں کے مطابق غزہ میں تقریباً 24 اسرائیلی یرغمالی زندہ موجود ہیں۔ تل ابیب کو امید ہے کہ کسی بھی معاہدے کے پہلے مرحلے میں ان چوبیس میں سے دس کو رہا کر دیا جائے گا۔ اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے اور جنگ کے مستقل خاتمے پر عمل نہ کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ حماس بین الاقوامی ضمانتوں کا مطالبہ کر رہی ہے جس میں اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا اور جنگ کا مستقل خاتمہ شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں