مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے گزشتہ روز یہ تصدیق کی تھی کہ حماس نے غزہ میں فائر بندی اور اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی تازہ تجویز کو قبول نہیں کیا۔ تاہم آج منگل کو اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" نے اطلاع دی ہے کہ وٹکوف اور امریکی صدر کے یرغمالیوں سے متعلق ایلچی ایڈم بولر نے غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلِ خانہ کو بتایا ہے کہ آنے والے دنوں میں یرغمالیوں کے معاملے میں پیش رفت کا قوی امکان ہے۔
ادھر حماس کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ تنظیم نے ثالثوں کی حالیہ پیشکش کو قبول کر لیا ہے، جس میں 70 روز کی جنگ بندی اور اس کے بدلے 10 زندہ یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔ اس ذریعے کے مطابق، اس جنگ بندی کے دوران مستقل فائر بندی کے لیے امریکی ضمانت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہونا ہے، جیسا کہ فرانسیسی خبر رساں ادارے نے بتایا۔
امریکہ کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے۔ وٹکوف کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ حماس نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ وٹکوف نے حماس کے بیان پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ "حماس کا طرزِ عمل مایوس کن اور بالکل نا قابلِ قبول ہے۔"
یاد رہے کہ مارچ میں حماس کے ساتھ طے شدہ نازک فائر بندی معاہدے کے انہدام کے بعد اسرائیلی افواج نے دوبارہ غزہ پر بم باری شروع کر دی، مکمل محاصرہ عائد کیا، اور ایک فوجی منصوبے کے تحت غزہ کے وسیع علاقوں پر قبضے اور وہاں کے شہریوں کو جنوب کی طرف دھکیلنے کا عمل جاری رکھا۔
-
"غزہ کے راستے کھول دیں، امداد تقسیم کا امریکی طریقہ کار ضروری کاموں سے توجہ ہٹا رہا "
اقوام متحدہ نے غزہ پٹی میں امداد پہنچانے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے وضع ...
بين الاقوامى -
غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم کے طریقہ کار کی تفصیلات آگئیں
اس وقت جب غزہ کی پٹی اسرائیلی سخت محاصرے میں ہے۔ اس میں داخل ہونے والی انسانی اور ...
بين الاقوامى -
غزہ امداد کا منتظر ... چند دنوں کے دوران صرف 123 ٹرک داخل ہو سکے !
العربیہ کے نمائندے کے مطابق آج منگل کی صبح سے غزہ کی پٹی کے شمال، مشرق اور جنوب ...
مشرق وسطی