حماس وٹکوف تجویز یا اپنے خاتمے میں سے کسی ایک انتخاب پر مجبور ہے: اسرائیلی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ حماس "مجبور" ہے کہ وہ وٹکوف کی تجویز کو قبول کرے یا اسے ختم کر دیا جائے۔

یسرائیل کاٹز نے مقبوضہ علاقوں میں 22 نئی بستیوں کے قیام کے اعلان کے اگلے دن کہا تھا کہ اسرائیل مغربی کنارے میں ’’ یہودی ریاست اسرائیل ‘‘ قائم کرے گا۔ کاٹز نے اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں مزید کہا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیموں کے لیے فیصلہ کن جواب ہے جو ہمیں نقصان پہنچانے اور اس سرزمین پر ہماری گرفت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ میکرون اور ان کے دوستوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے: وہ کاغذ پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے اور ہم یہاں زمین پر یہودی ریاست قائم کریں گے۔

فرانسیسی صدر میکرون نے جمعے کے روز کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک سیاسی مطالبہ ہے۔ ایسا کرنے کے لیے کئی شرائط درج ہیں۔ میکرون نے سنگاپور میں وزیر اعظم لارنس وونگ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر اسرائیل آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں انسانی صورتحال کے مطابق کوئی ردعمل فراہم نہیں کرتا ہے تو یورپیوں کو اسرائیل کے بارے میں غزہ کی پٹی سے متعلق اپنے اجتماعی موقف کو سخت کر دینا چاہیے۔

ان کا خیال تھا کہ یورپی یونین کو اپنے ضوابط کو نافذ کرنا چاہیے یعنی انسانی حقوق کا احترام کرنے والے میکانزم کو ختم کرنا چاہیے اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنا چاہیں۔ وہ 27 ممالک اور اسرائیل کے درمیان شراکت داری کے معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے جس پر بلاک نظرثانی کا ارادہ رکھتا ہے۔ میکرون نے کہا ہمیں اپنا موقف سخت کرنا چاہیے کیونکہ یہ آج کی ضرورت ہے، لیکن مجھے پھر بھی امید ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنا موقف نرم کرے گی اور آخرکار انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ردعمل سامنے آئے گا۔

دو ریاستی حل کانفرنس

فرانس، سعودی عرب کے ساتھ مل کر 17 سے 30 جون تک نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں دو ریاستی حل پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کی مشترکہ صدارت کر رہا ہے۔ میکرون نے کہا ہے کہ شرائط کے ساتھ "فلسطینی ریاست کا قیام" "صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک سیاسی مطالبہ ہے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔

انہوں نے اس کے لیے شرائط درج کیں۔ غزہ کی پٹی میں حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد سے قیدیوں کی رہائی کا حوالہ دیتے ہوئے، جس نے غزہ کی پٹی میں جنگ کو جنم دیا۔

تخفیف اسلحہ ہونا چاہیے اور حماس کی منصوبہ بند فلسطینی ریاست پر حکومت کرنے میں عدم شرکت ہونا چاہیے۔ فلسطینی ریاست کو اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا اور اسرائیل کو سلامتی کے ساتھ رہنے کا حق دینا ہوگا ۔ اسی طرح پورے خطے میں ایک سکیورٹی ڈھانچہ کا قیام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ وہی ہے جسے ہم 18 جون کو مل کر ایک اہم لمحے میں قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

شنگری لا ڈائیلاگ

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اس ہفتے کے آخر میں سنگاپور میں ایک سیکورٹی فورم کے لیے عالمی رہنماؤں، سفارت کاروں اور اعلیٰ دفاعی حکام میں شامل ہیں جو چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، یوکرین میں روس کی جنگ کے عالمی اثرات اور ایشیا میں تنازعات میں اضافے پر توجہ مرکوز کرے گا۔

میکرون شنگری لا ڈائیلاگ کا آغاز جمعہ کی شام کو ایک کلیدی خطاب کے ساتھ کریں گے جہاں ان تمام مسائل کو حل کرنے کی توقع ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے ایشیائی اتحادیوں پر اعلان کردہ بھاری محصولات کی وجہ سے عائد دباؤ پربھی تبادلہ خیال ہوگا۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سیکیورٹی اسٹڈیز کے زیر اہتمام شنگری لا ڈائیلاگ میں ہیگستھ کی یہ پہلی شرکت ہے۔ یہ بات چیت بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی کے پس منظر میں ہوئی ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے چین پر تین ہندسوں کے محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

وزیر دفاع کاٹز نے کہا 'یہ اعلان دہشت گرد تنظیموں کے لیے فیصلہ کن جواب ہے۔ یہ سرزمین پر ہماری گرفت کمزور کرنے اور اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیز یہ فرانسیسی صدر میکروں کے لیے بھی واضح پیغام ہے۔ وہ فلسطینی ریاست کو کاغذ پر تسلیم کریں گے اور ہم زمین پر یہودی اسرائیلی ریاست قائم کریں گے۔ '

کاٹز کا یہ بیان ان کے دفتر نے جمعہ کے روز جاری کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کاغذ تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا اور اسرائیلی ریاست خوشحال ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size