فلسطینی مالیاتی اداروں کے خلاف اسرائیلی انتقامی اقدام پر یورپی یونین کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپی یونین نے اسرائیل کو زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے انتہا پسند وزیر کی اس مہم کو روکے جس کے تحت وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ نے فلسطینیوں کے مالیاتی اداروں کو جام کر دینے کی دھمکی دی ہے۔ یورپی یونین کا یہ ردعمل بدھ کو سامنے آیا ہے۔

ایک روز قبل انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اور متشدد خیالات کے حامل اسرائیلی وزیر خزانہ نے اسرائیلی بنکوں کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اداروں کے ساتھ تعاون کو روک دیں۔

اس سے پہلے اسرائیلی حکومت نے ان بنکوں کو فلسطینی اداروں کے ساتھ کام کرنے کی چھوٹ دے رکھی تھی۔ یورپی یونین نے فلسطینیوں کے خلاف اس نئے اسرائیلی انتقامی اقدام پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں پہلے ہی فلسطینی معیشت تباہ حالی کا شکار ہے اور یہ تباہ حالی فلسطینی اتھارٹی کے مکمل ڈھے جانے تک جا سکتی ہے۔

یورپی یونین کی طرف سے بدھ کے روز اس تشویش کا اظہار ترجمان انونر نے کیا ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر اپنے اس فیصلے کو واپس لے کیونکہ ایسا کوئی بھی اقدام فلسطینی اتھارٹی کو مکمل ڈھا دینے کے مترادف ہوگا۔

اس پیدا شدہ صورتحال میں فلسطین کا معاشی و بنکاری نظام مکمل طور پر اس امر کا محتاج ہوگیا ہے کہ اسرائیل اپنا یہ فیصلہ واپس لے اور بنکوں کی یہ چھوٹ بحال کرے کہ وہ مغربی کنارے کے فلسطینی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کر سکتا ہے۔

اس چھوٹ کے ذریعے اسرائیلی بنکوں کو یہ تحفظ حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ مالی سطح پر لین دین کر سکتے ہیں اور ان سے اسرائیلی ادارے پوچھ گچھ نہیں کرتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں