ایران اور اسرائیل کے درمیان آج ہفتے کی صبح سویرے فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا، جب اسرائیل نے ایران پر اپنی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کیا تاکہ اسے ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس کی فضائیہ ایرانی سرزمین پر مختلف اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے، جب کہ ایرانی ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ اسرائیل پر میزائلوں کی ایک نئی کھیپ داغی گئی ہے۔
العربیہ اور الحدث کی رپورٹ کے مطابق ایران نے جمعے کی رات سے لے کر ہفتے کی صبح تک اسرائیل پر پانچ حملے کیے۔ ان کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 90 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔
مباشر من #قناة_العربية | الهجوم والهجوم المضاد.. هجمات إسرائيلية جديدة على مدن إيرانية بعد موجات من الصواريخ أطلقت من #إيران... وواشنطن تقول إنها ساعدت بالدفاع عن إسرائيل https://t.co/GgYmeuIRfV
— العربية (@AlArabiya) June 13, 2025
ایرانی میڈیا نے بتایا کہ شمال مغربی ایران کے شہر زنجان میں پاسدارانِ انقلاب کی ایک بکتر بند بریگیڈ کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ "نورنیوز" ایجنسی نے مغربی شہر ہمدان پر اسرائیلی حملے کی اطلاع دی۔
تل ابیب اور بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے، جس پر شہری پناہ گاہوں کی طرف دوڑ پڑے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا، اور گزشتہ ایک گھنٹے میں ایران سے درجنوں میزائل داغے گئے جن میں سے کچھ کو روک لیا گیا۔ امدادی ٹیمیں اُن علاقوں میں کام کر رہی ہیں جہاں گولے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم زخمیوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔
قتيلان وعشرات الإصابات جراء الضربات الصاروخية الإيرانية على #إسرائيل #إيران #قناة_العربية pic.twitter.com/tsPuzv1ASs
— العربية (@AlArabiya) June 14, 2025
بم باری کا تبادلہ
نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی "تسنیم" کے مطابق دار الحکومت تہران میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
"فارس" ایجنسی نے اطلاع دی کہ دو میزائل تہران کے مہرباد ہوائی اڈے پر گرے، جہاں آگ لگنے کی خبریں بھی آئیں۔ یہ ہوائی اڈا ایرانی قیادت کے مرکزی کے قریب واقع ہے اور اس میں فضائیہ کا ایک اڈا بھی ہے جس میں لڑاکا طیارے اور مال بردار جہاز موجود ہیں۔
وسائل إعلام إسرائيلية: سقوط صاروخ باليستي إيراني في منطقة ريشون لتسيون تسبب بوقوع 10 جرحى بينهم حالة حرجة#قناة_العربية#إسرائيل#إيران pic.twitter.com/lO4QKoKO09
— العربية (@AlArabiya) June 14, 2025
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک میزائل تل ابیب میں گرا، جب کہ "روئٹرز" کے ایک عینی شاہد نے بیت المقدس میں زوردار دھماکے کی آواز سنی۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ آوازیں ایرانی حملوں کی وجہ سے تھیں یا اسرائیلی دفاعی کارروائی کے نتیجے میں۔
اسرائیل کی جانب سے گزشتہ روز جمعہ کی صبح ایرانی عسکری اور ایٹمی شخصیات، فوجی اہداف اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیل میں ہلاکتیں اور زخمی
تل ابیب کے وسط میں ایک بلند رہائشی عمارت میزائل حملے کی زد میں آئی، جس سے اس کا نچلا حصہ بری طرح متاثر ہوا۔ قریبی شہر رامات گان میں ایک رہائشی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
اسرائیلی ایمبولینس سروس نے بتایا کہ تل ابیب کے علاقے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر کو معمولی چوٹیں آئیں۔ "العربیہ" اور "الحدث" کی نمائندہ نے رپورٹ کیا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں میں اسرائیل میں دو افراد جاں ہلاک ہوئے۔
دو امریکی حکام کے مطابق، جمعے کے روز امریکی فوج نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے کچھ میزائلوں کو مار گرایا۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ ایران نے سو سے کم میزائل داغے جن میں سے زیادہ تر کو ناکام بنایا گیا، تاہم تل ابیب اور اس کے مضافات میں کئی عمارتیں متاثر ہوئیں۔
ان حملوں اور جوابی کارروائیوں سے پورے خطے میں جنگ کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، اگرچہ اسرائیل نے ایران کے دو اہم اتحادیوں، یعنی غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ، کی جنگی صلاحیت کو بڑی حد تک کمزور کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ارنا" کے مطابق، نطنز کی بڑی جوہری تنصیب پر اسرائیلی حملے اور اعلیٰ ایرانی فوجی افسران کی ہلاکت کے بعد ایران نے اسرائیل پر سیکڑوں بیلسٹک میزائل داغے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ نطنز کی تنصیب کو کتنا نقصان پہنچا ہے، یہ جانچنے میں کچھ وقت لگے گا۔ مغربی ممالک ایران پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ وہاں یورینیم کو اس سطح تک افزودہ کر رہا ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے موزوں ہے، نہ کہ شہری استعمال کے لیے۔
اقوامِ متحدہ کی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے جمعے کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ نطنز کی زمینی تنصیب تباہ ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ایران کی دو دیگر تنصیبات فردو اور اصفہان پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بارے میں بھی معلومات جمع کر رہی ہے۔
خامنہ ای کی دھمکی
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اسرائیل پر جنگ چھیڑنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اسرائیل کے لیے اب کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی اور ایران کا انتقام بہت سخت ہو گا۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں 78 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل ہیں، جب کہ 320 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ ایران نے ان حملوں کا مکمل ذمے دار امریکا کو قرار دیا اور کہا کہ وہ ان نتائج کی مکمل ذمہ داری اٹھائے۔
"قومی سلامتی کا تحفظ"
اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر دانی دانون نے کہا کہ اسرائیلی خفیہ معلومات کے مطابق ایران چند دنوں میں اتنا افزودہ یورینیم تیار کر سکتا تھا کہ وہ کئی ایٹمی بم بنا سکے، اس لیے اسرائیل کی فوجی کارروائی "قومی سلامتی کے تحفظ" کا اقدام تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اسرائیلی بم باری کو روکنے کے لیے اپنے جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ کرے۔
واضح رہے کہ ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان ایک نئے جوہری معاہدے کے لیے بات چیت جاری تھی تاکہ 2018 میں ختم ہونے والے سابق معاہدے کی جگہ نیا معاہدہ طے پا سکے، لیکن ایران نے امریکا کی حالیہ پیشکش کو مسترد کر دیا۔