کویت میں مجالسِ عزا کے لیے نئے ضوابط کا اعلان، سکیورٹی اور شعائر کااحترام اولین ترجیح قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کویت میں مجالسِ عزا کے انعقاد سے متعلق نئی ہدایات طے کر لی گئی ہیں۔ اس حوالے سے "کمیٹی برائے مجالس عزاء" نے نائب اول وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ فہد الیوسف سے ملاقات کی جس میں عزاداری کے شعائر کے احترام اور سکیورٹی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے نئے ضوابط پر اتفاق کیا گیا۔

ان ضوابط کے مطابق گھروں میں مجالس کے انعقاد کی اجازت ہوگی تاہم شرکاء کی تعداد 50 افراد سے زیادہ نہیں ہوگی۔ گھر سے باہر ہجوم یا لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد رہے گی۔ اسی طرح مالی یا غیر مالی عطیات کو مجالس کے انتظامات میں استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ عاشورہ کے بعد مجالس کو سکولوں میں جاری رکھنے یا دوبارہ اپنی مقررہ جگہوں پر منتقل کرنے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ حدودِ احاطہ سے باہر کوئی سرگرمی نہ ہو اور باہر لاؤڈ اسپیکر استعمال نہ کیے جائیں۔ سکولوں میں کھانے کی تیاری کی اجازت بھی دی گئی ہے، تاہم اس کے لیے مکمل سکیورٹی اور سیفٹی تقاضے پورے کرنا لازمی ہوگا۔

مساجد میں منعقد ہونے والی مجالس کو پورے دن کی اجازت دی گئی ہے تاہم اختتام شام 9 بجے سے پہلے کرنا ہوگا۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ سکولوں، امام بارگاہوں، مساجد اور گھروں میں مجالسِ عزا کے انعقاد کا مکمل اختیار صرف وزارتِ داخلہ کو حاصل ہوگا۔ نیز محرم کے ابتدائی دس دنوں میں امام بارگاہوں کو عام عوام کے لیے کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، البتہ آن لائن براہِ راست نشریات کی سہولت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ مخصوص سکیورٹی اقدامات کے تحت "محفوظ سکولوں" کو مجالسِ عزا کے متبادل مقامات کے طور پر فراہم کیا جائے گا تاکہ موجودہ علاقائی حالات میں شرکاء کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

وزیر داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ کویتی قیادت علاقائی صورتحال کے باوجود عزاداری کے پرامن اور باوقار انعقاد کے لیے پُرعزم ہے۔اس مقصد کے لیے محفوظ مقامات کی فراہمی اور مقررہ ضوابط پر عملدرآمد کو لازم قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں