شامی صدر کسی بھی معاہدے سے قبل جولان سے اسرائیلی انخلا کے لیے کوشاں ہیں : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شامی صدر احمد الشرع کے اسرائیل کے ساتھ ایسے کسی امن معاہدے پر رضامند ہونے کے امکانات کم ہیں جس میں جولان کی پہاڑیوں سے انخلا شامل نہ ہو، جبکہ اسرائیل یہ واضح کر چکا ہے کہ جولان کا مسئلہ کسی بھی بات چیت سے خارج ہے۔

جولان کی پہاڑیوں سے انخلا

حکام کے مطابق شام کسی ممکنہ امن معاہدے میں جولان سے اسرائیلی انخلا کی کوشش کرے گا۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت آحرونوت کے مطابق، امریکا کو ان مذاکرات سے با خبر کر دیا گیا ہے جن میں صرف سیکیورٹی انتظامات نہیں بلکہ وسیع امور زیر بحث ہیں۔ اخبار نے لکھا کہ 2025 کے اختتام تک "شام - اسرائیل" امن معاہدے کے امکانات نمایاں ہو گئے ہیں۔ اس تناظر میں اسرائیلی وزیر رون دیرمر پیر کو واشنگٹن جائیں گے تاکہ ابراہیمی معاہدات کی توسیع سمیت دیگر امور پر بات ہو۔ ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ کئی ممالک ان معاہدوں میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے شام پر پابندیاں علاقائی اتحادیوں کی درخواست پر اٹھائیں تاکہ اسے موقع دیا جا سکے۔ شامی ذرائع کے مطابق امریکا کے دباؤ پر فریقین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جن میں 8 دسمبر 2024 کے بعد قبضے میں لی گئی تمام شامی اراضی سے اسرائیلی انخلا کے بدلے جنگ بندی کا اعلان شامل ہو سکتا ہے۔

جولان کا استثناء

ادھر اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے آج پیر کو یہ موقف دہرایا ہے کہ اسرائیل ... شام اور لبنان کے ساتھ رسمی تعلقات چاہتا ہے، لیکن وہ جولان کے مسئلے پر کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ ایک شامی ذریعے کے مطابق، دونوں ممالک 2025 کے اختتام سے قبل معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں، جس میں اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا اور جولان کو "امن کا باغ" قرار دینا شامل ہے، تاہم حتمی خود مختاری کا معاملہ واضح نہیں۔ صدر احمد الشرع نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی حکومت اقوامِ متحدہ کے ذریعے اسرائیلی حملے رکوانے کے لیے بالواسطہ مذاکرات کر رہی ہے، اور انھوں نے القنیطرہ اور جولان کے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی ہے۔

حملے ، در اندازی اور جولان پر قبضہ

دسمبر 2024 میں سابق شامی صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد اسرائیل نے درجنوں فضائی حملے کیے جن میں شام کی فضائی، بحری اور زمینی افواج کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج علاقے میں داخل ہو کر جولان، جبل الشیخ اور جنوبی شام کے دیگر حصوں تک پھیل گئی۔ اسرائیل 1967 کی جنگ میں تقریباً 1200 مربع کلومیٹر جولان پر قابض ہوا تھا اور بعد میں اسے ضم کر لیا، تاہم عالمی برادری میں امریکا کے سوا کسی نے اسے تسلیم نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں