آسٹریا نے جمعرات کو شام کے ایک مجرم کو شام واپس بھیج دیا جو "حالیہ برسوں میں" باضابطہ طور پر ایسا کرنے والا یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا۔
یہ بات ملک کی وزارتِ داخلہ نے کہی۔
دسمبر میں شامی رہنما بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے آسٹریا شامیوں کو واپس ملک بدر کرنے کے لیے زور دے رہا ہے۔
وزیرِ داخلہ گیرہارڈ کارنر نے اے ایف پی کو ارسال کردہ ایک بیان میں کہا، "آج کی گئی ملک بدری ایک سخت اور منصفانہ سیاسی پناہ کی پالیسی کا حصہ ہے۔"
وزارت نے کہا، یہ تقریباً 15 سالوں میں کسی شامی کو براہ راست شام بھیجنے کا پہلا واقعہ ہے اور آسٹریا "حالیہ برسوں میں کسی شامی مجرم کو باضابطہ طور پر شام بھیجنے والا پہلا یورپی ملک ہے۔"
کارنر نے اپریل میں اپنی جرمن ہم منصب نینسی فیسر کے ساتھ شام کا سفر کیا تھا تاکہ ملک بدری سمیت دیگر موضوعات پر بات چیت کی جائے۔
کارنر نے جمعرات کو اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ "محنت اور عزم کے ساتھ اس منتخب کردہ راستے کو جاری رکھیں گے۔"
آسٹریا یورپی یونین کے ان ممالک میں شامل تھا جس نے اسد کی معزولی کے بعد تمام شامی پناہ کی درخواستیں معطل کر دی تھیں۔ اس نے خاندانوں کو دوبارہ ملنے سے بھی روک دیا۔
تقریباً 100,000 شامی آسٹریا میں رہتے ہیں جو یورپ میں تارکینِ وطن کی ایک سب سے بڑی تعداد ہے۔
آسٹریا کی ہجرت مخالف اور انتہائی دائیں کی جماعت نے ستمبر میں ہونے والے قومی انتخابات جیتے اگرچہ اسے حکومت کرنے کے لیے شراکت دار نہ مل سکے جس کے باعث دوسرے نمبر پر آنے والے قدامت پسندوں کو نئی حکومت بنانے کا موقع مل گیا۔
-
اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کی بات قبل از وقت ہے : شام
ایک شامی سرکاری ذریعے نے تل ابیب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 'تصادم ختم کرنے کے معاہدے' ...
مشرق وسطی -
غزہ میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں 25 ہلاک، پناہ گاہوں میں موجود 12 بے گھر افراد شامل
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نے جمعرات کو کم از کم 25 افراد ...
مشرق وسطی -
غزہ معاہدے میں مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شامل ہیں : فلسطینی ذرائع
فلسطینی ذرائع نے جمعرات کے روز بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضمانت کے تحت پیش ...
مشرق وسطی