سر پر ایسے کھڑے کھڑے سے بال اور ننگے پاؤں کے ساتھ یہ حنظلہ ہے جبکہ اس کی پیٹھ دنیا کی طرف ہے۔ جو سب سے زیادہ فلسطینی مزاحمت کی علامت کے طور پر فلسطینیوں میں مقبول ہے۔ یہ حنظلہ ہے جو فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپوں میں بھی اسی طرح مقبول ہے جس طرح دنیا بھر میں موجود فلسطینیوں میں مقبول ہے۔ یہ سب اسے فلسطینی مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں۔ اسی طرح فلسطینیوں کی جدوجہد میں علامت کے طور پر فلسطینی پرچم مقبول ہے۔
جیسا کہ اسرائیل اور حماس کی غزہ میں جنگ جاری ہے اس وجہ سے اس کارٹونک کریکٹر میں لوگوں کی دلچسپی اور بڑھ گئی ہے کہ یہ فلسطینیوں کے مزاحمتی چہرے کی عکاسی کرتا ہے۔
حنظلہ کون ہے؟
حنظلہ ایک کارٹونک کریکٹر ہے جسے فلسطینی اخبار کے کارٹونسٹ ناجی العلی نے 1969 میں تخلیق کیا تھا۔ اس کارٹونک کریکٹر کی تخلیق 1967 کی جنگ کے دو سال بعد ہوئی اور اس وجہ سے یہ اس وقت فلسطینیوں پر بیتنے والے اسرائیلی جبر و ظلم کے اظہار کا ذریعہ بن گیا۔
یہ ایک نوجوان فلسطینی پناہ گزین ہے اور وہ کہتا ہے کہ جب تک وہ اپنے گھر واپس نہیں جاتا وہ اس سے انکار کرتا ہے۔ وہ عام طور پر اس طرح نظر آتا ہے کہ مسئلہ فلسطین پر غیر ملکی اقوام کے پیش کردہ حل کو مسترد کرنے کے لیے ان کی طرف پشت کر کے کھڑا ہے۔
حنظلہ کی عمر دس سال دکھائی گئی ہے کہ اس کا تخلیق کار بھی اس وقت 10 سال کا تھا کہ جب اسے اور اس کے والدین کو 1948 میں نقل مکانی ہر مجبور کر دیا گیا تھا۔ جسے آج بھی فلسطینی یوم نکبہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
فلسطینیوں کو ان کے علاقے سے نکالنے کے بعد ہی جبرا اسرائیلی ریاست قائم کی گئی تھی۔ حنظلہ کا نام فلسطین کے اس روایتی پودے سے لیا گیا ہے جو فلسطین میں عام پور پر پایا جاتا یے اور اسے حنظال کہا جاتا ہے۔
اس پودے کی خوبی یہ ہے کہ اس کی جڑیں زمین میں گہری ہیں اور اسے جڑ سے اکھاڑ بھی دیا جائے تو بار بار اگ آتا ہے۔ اس لیے حنظلہ کا نام اس پودے سے لیا گیا ہے کہ فلسطینی جن کو بار بار ان کے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے گھروں میں واپسی کے جذبے سے سرشار ہیں اور اپنی سرزمین سے گہری محبت رکھتے ہیں۔
کارٹون حنظلہ کے تخلیق کار ناجی العلی کون ہیں؟
ناجی العلی 1938 میں فلسطینی گاؤں الشجرہ میں پیدا ہوئے۔ یہ گلالیلی میں واقع ہے اور اب شمالی اسرائیل کی طرف ہے۔ انہوں نے 40 ہزار سے زائد کارٹون بنائے ہیں اور اس وجہ سے اسرائیلی فوج انہیں بار ہا جیلوں میں بند کرچکی ہے۔
وہ 10 سال کے تھے جب ان کے والدین سمیت انہیں ان کے گھروں سے بے گھر کر کے پناہ گزین کیمپوں می دھکیل دیا گیا تھا۔ جیسا کہ آج کل امریکی حمایت یافتہ 'غزہ فاؤنڈیشن' نے پھر اسی طرح کا منصوبہ پیش کیا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر ان کیمپوں میں رکھا جائے۔
1948 میں ساڑھے 7 لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے جبراً نکال دیا گیا تھا۔ اس بڑی تباہی کے دن کو عربی میں 'یوم نکبہ' کہا جاتا ہے۔
ناجی العلی نے اپنے کیریئر کا زیادہ وقت کویت میں گزارا ہے جہاں وہ ایک اخبار السیاسۃ کے لیے کام کرتے رہے اور پھر القباس اخبار میں چلے گئے۔
1987 میں انہیں نامعلوم قاتلوں نے ان کے دفتر کے باہر لندن میں شہید کر دیا۔ 2017 میں لندن پولیس نے اس کیس کو دوبارہ کھولا مگر آج تک اس کیس کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ ان کی شہادت کو 38 سال گزر چکے ہیں۔ تاہم آج بھی ان کا فلسطینی جدوجہد کے لیے بنایا گیا کارٹون کردار اسی طرح مقبول عام ہے جس طرح ماضی میں تھا۔
یہ کارٹون فلسطینیوں نے اس دیوار پر بھی جگہ جگہ بنا رکھا ہے جس دیوار کو اسرائیل نے جبری قبضے کے لیے فلسطین میں تعمیر کر رکھا ہے۔
13 جولائی کو حنظلہ کے نام سے ایک کشتی عزہ کی طرف روانہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ وہ فریڈم فلوٹیلا کے انداز میں غزہ کے فلسطینیوں کو خوراک اور امداد مہیا کر سکیں۔ کیونکہ اسرائیلی فوج نے 2 مارچ سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
فریڈم فلوٹیلا فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ اس نے امدادی کشتی کا نام اسی کارٹون کریکٹر کے نام پر رکھا ہے تاکہ اس سے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہو سکے اور فلسطینی پناہ گزین بچوں کے اپنے گھروں میں واپس جانے کی حمایت ہو سکے۔
-
ایندھن کی قلت سے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال کے قبرستان میں تبدیل ہو جانے کا خدشہ ہے: ڈاکٹر
غزہ کے سب سے بڑے طبی مرکز میں پریشان حال ڈاکٹر اور مریض جلد ہی ایندھن کی کمی کے ...
مشرق وسطی -
غزہ پر اسرائیلی حملوں میں آٹھ بچوں سمیت کم از کم 23 افراد جان سے گئے
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے جمعرات کو کہا ہے کہ فلسطینی سرزمین پر رات گئے اسرائیلی ...
مشرق وسطی -
یورپی یونین نے غزہ تک امدادی رسائی میں توسیع کے لیے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کیا ہے: کالاس
یورپی یونین نے جمعرات کو اسرائیل کے ساتھ غزہ تک امداد کی رسائی میں توسیع کے لیے ...
مشرق وسطی