سعودی عرب : خیراتی عطیات کے نظام کی خلاف ورزی ، 18 فلاحی انجمنوں پر جرمانے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب میں غیر منافع بخش سیکٹر کی ترقی کے قومی مرکز "نیشنل سینٹر فار نان پرافٹ سیکٹر" نے گزشتہ سال 18 فلاحی انجمنوں کے خلاف خیراتی عطیات کے نظام کی خلاف ورزی پر کارروائی کی۔ ان کارروائیوں میں مالی جرمانے عائد کرنا اور ایک انجمن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو برطرف کرنا شامل ہے۔ مرکز نے واضح کیا کہ وہ تمام عطیات پر نظر رکھتا ہے تاکہ انھیں باقاعدہ طریقے سے مستحقین تک پہنچایا جا سکے، اور یہ نگرانی سیکیورٹی، احتسابی اور عدالتی اداروں کے تعاون سے انجام دی جاتی ہے۔

سعودی کابینہ نے حال ہی میں خیراتی عطیات جمع کرنے کے نظام کی منظوری دی، جو 23 دفعات پر مشتمل ہے۔ اس نظام کا مقصد عطیات کے جمع کرنے اور خرچ کرنے کے عمل کو قواعد و ضوابط کے تحت لانا ہے، تاکہ یہ عطیات صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوں جس کے لیے دیے گئے ہوں، اور غیر مجاز عطیات یا مالی بے ضابطگیوں سے بچا جا سکے۔

منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات


مرکز نے بتایا کہ اس نے عطیات جمع کرنے سے متعلق شرائط اور ہدایات جاری کیں، لائسنس جاری کیے، اشتہارات کی نگرانی کی، عطیات کی مالی نگرانی کی، تفصیلی رپورٹیں طلب کیں، اور خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی کی۔ ان تمام امور کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف بنائے گئے ضوابط پر عمل یقینی بنانا ہے۔ مرکز یہ تمام ضوابط اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتا ہے اور خطرات کی بنیاد پر دفتر اور فیلڈ میں معائنہ کرتا ہے۔

رمضان میں افطار یا حج کے دوران پانی کی فراہمی جیسی موسمی خیراتی مہموں کے حوالے سے مرکز سخت فیلڈ نگرانی کرتا ہے، رپورٹیں طلب کرتا ہے، اور عطیات کے مقاصد، مطلوبہ رقم اور خرچ کی تفصیلات کو انجمن کو دیے گئے لائسنس میں واضح کرتا ہے۔

"تبرع بأمان" خدمت اور منظور شدہ پلیٹ فارم


عطیات کے نظام پر اعتماد بڑھانے کے لیے مرکز نے "تبرع بأمان" نامی خدمت شروع کی ہے، جس کے ذریعے عطیہ دینے والے QR کوڈ اسکین کر کے انجمن کا لائسنس چیک کر سکتے ہیں، یا مرکز کی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ مرکز نے عطیات دینے والوں کو سرکاری اور منظور شدہ پلیٹ فارموں جیسے "إحسان"، "المنصة الوطنية للتبرعات"، "شفاء"، اور "ساهم" استعمال کرنے کی سفارش کی ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں