حماس کی طرف سے اردن اور مصر کی بے عزتی کو سختی سے مسترد کرتے ہیں: تحریک فتح

اردن اور مصر کا موقف قابل تعریف ہے، قاہرہ اور عمان ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقیقی حامی رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی لبریشن موومنٹ (فتح) نے مصر اور اردن کے خلاف حماس کی کچھ قیادت کی طرف سے دیے گئے بیانات کو سختی سے مسترد کردیا اور زور دے کر کہا کہ یہ بیانات فلسطینی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی قومی کاز کی خدمت کرتے ہیں۔

تحریک فتح نے ایک بیان میں کہا کہ مصر اور اردن ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقیقی حامی رہے ہیں۔ انہوں نے فلسطینیوں کو پناہ دی اور بین الاقوامی فورمز میں ان کے حقوق کا دفاع کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان دونوں برادر ممالک کے خلاف کوئی بھی بے عزتی صرف تقسیم کرنے والے ایجنڈوں اور بیرونی منصوبوں کی خدمت کرتی ہے جن کا مقصد عرب موقف کی وحدت کو نشانہ بنانا ہے۔

تحریک فتح نے صدر عبد الفتاح السیسی کی قیادت میں مصر کے کردار کی بھی تعریف کی جس میں فلسطینی صفوں کی وحدت کی حمایت اور غزہ پر عائد ناکہ بندی کو ختم کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ اسی طرح فتح نے شاہ عبداللہ دوم کی قیادت میں اردن کو بھی سراہا جس نے مقدس مقامات کی حفاظت اور دو ریاستی حل کے لیے اپنی مستقل حمایت کے حوالے سے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔

یاد رہے حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس نے غزہ کی جنگ میں مصر اور اردن کے کردار کے بارے میں شدید ناراضی پیدا کی۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان دوحہ میں جنگ بندی کی بات چیت گزشتہ ہفتے تعطل کا شکار ہو گئی تھی کیونکہ فریقین نے ایک دوسرے پر تعطل کا سبب بننے کا الزام لگایا اور ان مسائل پر اختلافات برقرار رہے جن میں وہ لائنیں بھی شامل ہیں جہاں تک اسرائیلی افواج پیچھے ہٹیں گی۔

غزہ میں حماس پر اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے اور فلسطین کی پٹی میں "تباہ کن" انسانی صورتحال کو ختم کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں