عدلیہ نے کہا کہ ایرانی حکام نے بدھ کے روز اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی جس نے ایک جوہری سائنسدان کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ مذکورہ سائنسدان جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔
عدلیہ کی میزان آن لائن ویب سائٹ نے کہا، "روزبہ وادی کو عدالتی کارروائی اور سپریم کورٹ کی طرف سے سزا کی توثیق کے بعد پھانسی دی گئی۔ اس شخص نے ایک "جوہری سائنسدان کے بارے میں معلومات افشا کی تھیں جو صیہونی حکومت کی حالیہ جارحیت کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔"
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مجرم کو کب گرفتار کیا گیا یا سزا سنائی گئی۔
میزان نے کہا کہ اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی موساد میں آن لائن بھرتی ہونے کے بعد وادی نے "کلاسیفائیڈ معلومات" فراہم کیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق جون کے مہینے میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں ایران کے کم از کم ایک درجن جوہری سائنسدان ہلاک ہوئے۔
ایران نے جنگ کے بعد سے اسرائیل سے تعاون کے شبہے میں گرفتار کردہ لوگوں کے خلاف جلد مقدمات چلانے کا عزم کیا ہے۔
اس کے بعد سے حکام نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے شبے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا اور موساد کے ساتھ کام کرنے کے الزام میں متعدد افراد کو پھانسی دینے کا اعلان کیا ہے۔