کویت میں ملاوٹ شدہ شراب پینے سے 13 افراد ہلاک: وزارتِ صحت
مریضوں مین زیادہ تر ایشیائی تارکینِ وطن شامل ہیں
خلیجی ریاست کویت کی وزارتِ صحت نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ملاوٹ شدہ شراب کے استعمال سے ملک میں حالیہ دنوں میں 13 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دیگر درجنوں افراد کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال جانا پڑا۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا، "ہسپتالوں نے گذشتہ ہفتے کے دن سے شراب کے زہر سے متأثرہ 63 افراد کا علاج کیا ہے جو میتھانول سے آلودہ مشروبات کے استعمال سے بیمار ہوئے۔"
کویت کی حکومت نے 1964 میں شراب کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی اور 1980 کے عشرے میں اس کے استعمال کو جرم قرار دیا گیا تھا۔
وزارتِ صحت کے مطابق شراب سے پیداشدہ زہر کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں 21 افراد کو نابینا پن اور بصارت کی کمزوری کا مسئلہ ہوا جبکہ 51 کو فوری ڈائیلاسز اور 31 کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پیش آئی۔ یہ تمام مریض کویت میں موجود ایشیائی تارکینِ وطن کمیونٹی سے تھے۔
کویت کی آبادی کا ایک بڑا حصہ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کارکنان پر مشتمل ہے جو تعمیرات، گھریلو خدمات اور خوردہ فروخت کے شعبوں میں بہت زیادہ تعداد میں ہیں۔