سعودی شہریوں کی بازوں میں دلچسپی غیرملکی سیاحوں کو بھی متاثر کرنے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شمالی علاقے ملہم میں واقع سعودی فالکن کلب کے ہیڈکوارٹر کے دورے پر آنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ کس طرح سعودی عوام نے ’بازی گری‘ یعنی باز پالنے اور ان سے لگاؤ کے اس شوق کو دیگر ملکوں کے لوگوں تک منتقل کردیا ہے۔ یہ منظر ان دنوں انٹرنیشنل فالکن بریڈنگ فارم آکشن 2025 میں بخوبی نظر آرہا ہے، جہاں سیاحوں اور غیرملکی خاندانوں کی بڑی تعداد اس ورثے کو دیکھنے کے لیے پہنچ رہی ہے۔

خاندانوں نے نیلامی کے دوران بازوں کی پرورش کے اس قدیم ورثے کو قریب سے دیکھا، صقور کی اقسام، خوراک اور خرید و فروخت کے طریقہ کار پر ماہرین کی دلچسپ وضاحتیں سنیں۔ اس کے ساتھ سعودی فالکن کلب کی جانب سے اس ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بریڈنگ فارمز کی حوصلہ افزائی کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہی حاصل کی۔

نیلامی میں "صقار لمستقبل" کا خصوصی گوشہ بھی بچوں کی توجہ کا مرکز بنا، جہاں انہوں نے باز کی تربیت اور دیکھ بھال کے آلات دیکھے، مقناص کی روایات جانیں اور کنگ عبدالعزیز فیسٹیول برائے صقور میں شریک نوجوان صقاروں کی ویڈیوز دیکھ کر محظوظ ہوئے۔ یہ سب اقدامات نئی نسل میں بازی گری کے اس شوق کو راسخ کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں۔

فالکن نیلامی بیک وقت ایک اہم معاشی، سرمایہ کاری اور ثقافتی مرکز بھی ہے، جو مملکت میں شاہین پرندوں کے شعبے کی تیز رفتار ترقی کا مظہر ہے۔ یہ ایونٹ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک سے بھی اعلیٰ بریڈرز اور شائقین کو یکجا کرتا ہے اور سعودی عرب کے خطے میں اس صنعت کے قائدانہ کردار کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

مستقیم نیلامی کا یہ سلسلہ اپنی تیزی اور مسابقتی فضا کی بدولت نمایاں ہے، جس میں صقار، بریڈرز اور شائقین بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ اس کی سرگرمیاں ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر براہِ راست دکھائی جاتی ہیں، جبکہ مختلف فارمز کے صقور خصوصی اسٹالز پر نمائش کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ اس سب نے سعودی عرب کی عالمی سطح پر بازی گری اور صقور کے میدان میں پہچان کو مزید اجاگر کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں