ستمبر کے آخر تک شام اور اسرائیل کے درمیان "سیکورٹی معاہدہ" ہو گا

معاہدے پر دستخط سے قبل شامی صدر احمد الشرع نیویارک میں خطاب کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے اعلیٰ سطحی ذرائع نے "انڈیپنڈنٹ (عربیہ)" کو بتایا ہے کہ شام اور اسرائیل آئندہ ماہ 25 ستمبر کو امریکا کی سرپرستی میں ایک سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کریں گے۔

ذرائع کے مطابق معاہدے پر دستخط سے قبل شام کے صدر احمد الشرع نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کریں گے۔

ان ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل قریب میں دمشق اور تل ابیب کے درمیان کسی جامع امن معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے، بلکہ سمجھوتا صرف سیکیورٹی پہلو تک محدود رہے گا تاکہ دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی ختم ہو۔

بدھ کو العربیہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ شام اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 80 فی صد نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، اور یہ طے پایا ہے کہ دونوں ممالک اپنی سیکیورٹی بات چیت کو باکو اور پیرس میں جاری رکھیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی شام کے لیے سیکیورٹی انتظامات تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔

شامی خبر رساں ایجنسی "سانا" کے مطابق وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے منگل کو ایک اسرائیلی وفد سے ملاقات کی۔ ایجنسی کے مطابق مذاکرات کا محور کشیدگی کم کرنا، شام کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت، خطے کے استحکام کے لیے مفاہمت اور صوبہ سویداء میں فائربندی کی نگرانی رہا۔

اجلاس میں 1974 کے اس معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر بھی غور کیا گیا، جس کے تحت شام اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کے بعد اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں جولان کی پہاڑیوں پر ایک غیر فوجی علاقہ قائم کیا گیا تھا۔

چند دن قبل شامی صدر احمد الشرع نے کہا تھا کہ ملک کی وحدت کی جدوجہد، برسوں کی جنگ کے بعد "خون اور فوجی طاقت سے نہیں ہونی چاہیے۔" انھوں نے کسی بھی قسم کی تقسیم کو مسترد کیا اور اسرائیل پر جنوبی شام میں مداخلت کا الزام لگایا۔

الشرع نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب صوبہ ادلب کے عمائدین اور سیاست دانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا "ہم نے شام کی آزادی کی لڑائی میں نظام کو گرا دیا، لیکن اب ہمارے سامنے ایک اور لڑائی ہے، ملک کو متحد کرنے کی، جو خون اور فوجی طاقت کے بجائے افہام و تفہیم سے ہونی چاہیے۔"

صدر الشرع نے کہا "میں شام میں کسی تقسیم کا خطرہ نہیں دیکھتا ... یہ ناممکن ہے۔" انھوں نے مزید کہا "کچھ فریق خود کو اسرائیل یا دیگر علاقائی قوتوں سے مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ انتہائی مشکل اور ناقابلِ عمل ہے"۔ ان کا اشارہ صوبہ سویداء کے بعض دروز گروہوں کی طرف تھا جو اسرائیلی مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں