حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کی رفتار کےمطابق جنوبی لبنان سےاسرائیلی انخلا ہو گا:امریکی ایلچی
واشنگٹن حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں لبنانی فوج کی مدد کے لیے تیار ہے : اورٹاگوس
لبنان کے لیے امریکی ایلچی ٹوم براک نے بیروت میں لبنانی صدر جوزف عون اور اُن کے وفد سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ "لبنان میں کوئی بھی خانہ جنگی نہیں چاہتا"۔ اُنہوں نے کہا کہ "لبنان کی تجویز موصول ہونے پر اسرائیل ایک جوابی تجویز دے گا، اور اسرائیلی رد عمل تاریخی ہو گا، جو مرحلہ وار سامنے آئے گا، لیکن حزب اللہ کو ان کے خلاف مسلح نہیں کیا جانا چاہیے"۔ امریکی ایلچی نے مزید کہا "حزب اللہ نے سیاسی راستے کو چھوڑ کر اسلحہ رکھنے پر اصرار کیا ہے"۔
ٹوم براک نے لبنانی حکومت کے کام کو "حیرت انگیز" قرار دیا اور کہا کہ لبنانی فوج جنوبی دریائے لیتانی کے جنوب میں اپنا فرض مؤثر طریقے سے ادا کر رہی ہے۔ تاہم اُنہوں نے بتایا کہ وہ حزب اللہ کے اسلحہ چھڑوانے کے لیے فوج کے منصوبے سے آگاہ نہیں ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک مالیاتی منصوبہ موجود ہے جس کے تحت حزب اللہ کے وہ عناصر جو اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اُنہیں معاوضہ دیا جائے گا، اور یہ کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے انخلا کا ایک منصوبہ پیش کرے گا۔
اس سلسلے میں براک نے کہا کہ لبنان 31 اگست کو حزب اللہ کو اسلحہ چھوڑنے پر راضی کرنے کے لیے اپنی تجویز پیش کرے گا، اور اسرائیل اس کے جواب میں اپنی جوابی تجویز دے گا۔
توم برّاك: على اللبنانيين إقناع حزب الله بألا يكون خصما للدولة #لبنان #قناة_العربية pic.twitter.com/yLf7BPKLSq
— العربية (@AlArabiya) August 26, 2025
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ اگر لبنان اپنی قیادت کے ذریعے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ نافذ کرتا ہے تو امریکا، لبنان کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں اُن کا کہنا تھا "اگر امریکا مشرقِ وسطیٰ میں کسی ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرے گا تو غالباً وہ لبنان ہو گا"۔ گراہم نے وضاحت کی کہ واشنگٹن صرف لبنان کی سرکاری مسلح افواج کے ساتھ تعاون کرے گا جو پورے لبنانی عوام کا دفاع کریں اور تمام سماجی طبقات کے احترام کی حامل ہوں۔ اُنھوں نے بیروت پر زور دیا کہ "فیصلہ کن قدم جلد اٹھایا جائے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوئی صورت نکالی جائے، ورنہ کئی دروازے بند رہیں گے"۔
گراہم نے کہا کہ حزب اللہ کا ایجنڈا لبنانی عوام کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ لبنان کے مفاد سے الگ ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا خیال لبنانی ہے، بیرونی نہیں۔ اُن کے مطابق "حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر اسرائیل سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا"۔ اور ایک سوال کے جواب میں گراہم نے کہا "اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کے بعد لبنان کو ایک مختلف نظر سے دیکھنا چاہیے"۔
مراسلة العربية غنوة يتيم:
— العربية (@AlArabiya) August 26, 2025
•براك يسلم الرئيس اللبناني رد إسرائيل على الورقة الأميركية
•الجيش اللبناني يحتاج دعما ماليا ولوجستيا لنزع سلاح حزب الله
•مخاوف لبنانية من عدم انسحاب كامل للقوات الإسرائيلية من "النقاط الخمس"#قناة_العربية#أخبار_الصباح pic.twitter.com/fSdaoafsOu
امریکی وفد کی سربراہ سینیٹر جین شاہن نے کہا "لبنانی فوج کی حمایت ضروری ہے"۔ اُنھوں نے لبنان کے مستقبل کے لیے اختیار کردہ راستے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے "جرات مندانہ فیصلے" کی بھی حمایت کی۔ اُن کا کہنا تھا "ہم سمجھتے ہیں کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا مشکل لیکن فیصلہ کن قدم ہے"۔
اس سے قبل لبنانی صدر نے بیروت میں امریکی ایلچی برائے لبنان ٹوم براک سے ملاقات کی اور امریکی وفد (جس کی قیادت سینیٹر جین شاہن کر رہی تھیں) کے ساتھ حزب اللہ کے ہتھیاروں سے متعلق لبنانی نکات پر اسرائیلی رد عمل کے حوالے سے گفتگو کی۔ صدر جوزف عون نے زور دیا تھا کہ "فرقوں پر مبنی لبنان کبھی ریاست نہیں بنا سکتا، ریاست ہی ہے جو تمام فرقوں کی حفاظت کرتی ہے اور وطن کو محفوظ رکھتی ہے"۔
اسی دوران امریکی ایلچی مورگن اورٹاگوس نے لبنان کے دورے میں کہا کہ حزب اللہ ایران کی نمائندگی کرتی ہے، لبنانی عوام کی نہیں، اور واشنگٹن لبنانی فوج کی مدد کے لیے تیار ہے تاکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا سکے۔
انگریزی ویب سائٹThis is Beirut کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی نائب ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ مورگن اورٹاگوس نے اپنے لبنان کے دورے کے اختتام پر کہا کہ امریکا لبنانی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور فوج کی مدد کے لیے تیار ہے تاکہ اس منصوبے پر عمل درآمد کیا جا سکے۔
لبنانی وزیر داخلہ احمد الحجار نے "العربیہ" اور "الحدث" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کوئی بھی لبنانی خانہ جنگی نہیں چاہتا اور ریاست کے ہاتھ میں اسلحہ ہونا سب کے مفاد میں ہے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز ممکنہ احتجاجات کے دوران کسی بھی قسم کے حملوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
-
سکیورٹی فورسز کسی بھی احتجاج کے دوران بد امنی یا حملوں کی اجازت نہیں دیں گی : لبنانی وزیر
لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار نے زور دے کر کہا ہے کہ سب کے مفاد میں یہی ہے کہ ...
مشرق وسطی -
ایران سے حزب اللہ کو ہتھیاروں کی فراہمی تباہ، لبنانی فوج کی حمایت کریں: پومپیو
سابق امریکی سفارت کار کی امن فوج کی مخالفت
مشرق وسطی -
اسرائیل حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کے ساتھ لبنان سے انخلاء کرے گا: امریکی نمائندہ
امریکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں لبنانی فوج کی مدد کے لیے تیار ہے: ٹام براک ...
بين الاقوامى