بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو شام کے سابق جوہری مقام پر یورینیم کے آثار ملے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے (آئی اے ای اے) نے منگل کو کہا کہ اس کے معائنہ کاروں کو شام میں ایک مقام پر یورینیم کے آثار ملے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ سابق حکومت کے خفیہ جوہری پروگرام کا حصہ تھا۔

خیال ہے کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد نے ایک وسیع غیر اعلانیہ جوہری پروگرام شروع کر رکھا تھا جس میں مشرقی صوبہ دیر الزور میں شمالی کوریا کا بنایا گیا ایک غیر اعلانیہ جوہری ری ایکٹر بھی شامل تھا۔

آئی اے ای اے ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے پہلے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ شام کی بعض سرگرمیاں "ایجنسی کی رائے میں ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے متعلق تھیں۔"

آئی اے ای اے کے ترجمان فریڈرک ڈہل نے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ سال آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے علاقے کا دورہ کیا اور "تین مقامات سے" ماحولیاتی نمونے لیے جو "مبینہ طور پر فعالیت کے لحاظ سے دیر الزور کے مقام سے متعلقہ تھے اور تجزیئے سے انکشاف ہوا کہ تین میں سے ایک مقام سے لیے گئے نمونوں میں انسانی سرگرمیوں سے پیداشدہ قدرتی یورینیم کے ذرات کی نمایاں تعداد موجود تھی۔"

گروسی نے پیر کی شام ایک رپورٹ میں ان نتائج کی اطلاع ایجنسی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو دی۔

اسرائیل نے 2007 میں اس تنصیب کو تباہ کرنے کے لیے فضائی حملے شروع کیے جس کے بعد ہی دیر الزور کا مقام عوام کے علم میں آیا۔ شام نے بعد میں یہ مقام مسمار کر دیا اور کبھی بھی آئی اے ای اےکے سوالات کا مکمل جواب نہیں دیا۔

آئی اے ای اے کی ایک ٹیم نے گذشتہ سال دلچسپی کے حامل بعض مقامات کا دورہ کیا جب اسد بدستور اقتدار میں تھے۔ پھر عبوری صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت نے ایجنسی سے تعاون کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور دوبارہ معائنہ کاروں کو اس جگہ تک رسائی فراہم کی جہاں سے یورینیم کے ذرات ملے تھے۔

انہوں نے وہاں مزید نمونے لیے اور اب ہم "ان تمام ماحولیاتی نمونوں کے نتائج اور دیر الزور کے طے شدہ دورے سے حاصل کردہ معلومات کا جائزہ لیں گے اور ضرورت کے مطابق فالو اپ سرگرمیاں کر سکتے ہیں،" ڈہل نے کہا۔

جون میں دمشق کے دورے کے دوران اے پی کو ایک انٹرویو میں گروسی نے کہا کہ الشرع نے مستقبل میں شام کے لیے جوہری توانائی کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

خطے کے کئی دوسرے ممالک بھی کسی نہ کسی شکل میں جوہری توانائی حاصل کر رہے ہیں۔ گروسی نے کہا کہ شام ممکنہ طور پر چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز پر غور کرے گا جو روایتی بڑے ری ایکٹرز کے مقابلے میں سستے اور آسانی سے تعینات ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام کا نظامِ صحت تقریباً 14 سال کی خانہ جنگی کی وجہ سے شدید کمزور ہو گیا ہے جس کی بنا پر آئی اے ای اے ریڈیو تھراپی، نیوکلیئر میڈیسن اور آنکولوجی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں