دوحہ میں حماس کی قیادت پر اسرائیلی فضائی حملے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل نے منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی کارروائی کی تاہم اس کارروائی کے کامیابی کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ حملہ ایک رہائشی کمپلیکس پر کیا گیا جہاں جماعت کے اعلیٰ قائدین موجود تھے۔

اسرائیل نے تاحال کارروائی کے نتائج پر کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم حماس کا کہنا ہے کہ اس کے رہنما محفوظ رہے جبکہ چھ افراد ہلاک ہوئے۔

یہ حملہ ایسے ملک میں ہوا جو امریکہ کا قریبی اتحادی اور غزہ جنگ میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

حملہ کہاں ہوا؟

دوحہ کے شمال میں ایک پرتعیش رہائشی علاقے میں یہ حملہ سہ پہر 3 بج کر 46 منٹ پر ہوا۔ یہاں سفارت خانے، سکولز، نرسری اور غیرملکی شخصیات رہائش پذیر ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور دھواں آسمان تک بلند ہوتا رہا۔

ذرائع کے مطابق حملہ اس کمپلیکس پر کیا گیا جہاں حماس کے رہنماؤں کے دفاتر ہیں۔ بتایا گیا کہ اس وقت سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کے دفتر میں اجلاس جاری تھا۔ یہ اجلاس امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین جنگ بندی تجویز پر فیصلہ سازی کے لیے بلایا گیا تھا۔ ترکیہ اور مصر سے بھی حماس کے وفد کے ارکان اس میں شریک تھے۔

ایک اور ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ دفتر میں آٹھ بڑے دھماکے ہوئے۔

"وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق اس آپریشن کے لیے کم از کم دس اسرائیلی جنگی طیارے استعمال ہوئے، جو دور سے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں سے لیس تھے۔

قطر 2012ء سے حماس کے سیاسی دفتر کی میزبانی کر رہا ہے، جہاں خالد مشعل، خلیل الحیہ اور دیگر رہنما مقیم ہیں۔

کن رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا؟

ذرائع کے مطابق حملے کے وقت عمارت میں خلیل الحیہ، خالد مشعل، زاہر جبارین، باسم نعیم، غازی حمد اور طاہر نونو موجود تھے۔

حماس نے بعد ازاں ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل "وفد کے کسی رکن کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا"۔ حماس رہنما سہیل ہندی کے مطابق خلیل الحیہ اور زاہر جبارین سمیت تمام رہنما زندہ بچ گئے۔

قطر کی وزارت داخلہ نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے: ان میں بدر سعد محمد الحمیدی الدوسری بھی شامل ہیں جو قطری داخلی سکیورٹی فورس میں تعینات تھے اور حملے کے وقت ڈیوٹی پر موجود تھے۔

اس کے علاوہ ہمام خلیل الحیہ بھی ہلاک ہونےوالوں میں شامل ہیں۔ ہمام حماس کے سینیر مذاکرات کارخلیل الحیہ کے صاحبزادے تھے۔
ہلاک ہونے والے ایک محافظ کی شناخت مؤمن حسونہ کے نام سے کی گئی ہے۔

حماس نے مزید بتایا کہ خلیل الحیہ کے دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبد، اور دو ساتھی احمد المملوک اور عبداللہ عبد الواحد بھی مارے گئے۔

کیا قطر کو اطلاع دی گئی تھی؟

قطر نے کہا کہ اسے اس کارروائی کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ دوحہ نے اسے "ریاستی دہشت گردی" قرار دیا۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا کہ ملک کے فضائی دفاع نے ایران کے میزائلوں کو تو پہلے روکا تھا، مگر اسرائیل نے ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی جس سے اسرائیلی طیارے ریڈار پر نہیں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے قطر کو حملے کی خبر محض دس منٹ پہلے دی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا کہ انہیں آخری لمحات میں آگاہ کیا گیا اور فوری طور پر خصوصی ایلچی کو ہدایت دی گئی کہ قطر کو اطلاع دیں، مگر اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔

اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر دانی دانون نے کہاکہ "ہم ہمیشہ امریکہ کے مفاد کے مطابق نہیں چلتے۔ وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، لیکن بعض فیصلے ہم خود کرتے ہیں اور بعد میں امریکہ کو آگاہ کرتے ہیں"۔

نیتن یاھو کا بیان

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا کہ "یہ کارروائی اسرائیل نے خود کی، اسرائیل ہی نے منصوبہ بنایا اور اس کی مکمل ذمہ داری بھی اسرائیل پر ہے۔" ان کے مطابق ہدف حماس کے اعلیٰ رہنما تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں