اسرائیلی نشریاتی ادارے کے اے این کی رپورٹ کے مطابق قطر میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کے معاملے پر متحدہ عرب امارات نے جمعے کے روز اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا۔
قطری دارالحکومت دوحہ پر منگل کے حملے سے قبل مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کے بارے میں ابوظہبی اور اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار تھے جسے متحدہ عرب امارات نے ایک ’سرخ لکیر‘ قرار دیا تھا۔
حماس کے سیاسی رہنماؤں کو قتل کرنے کی اسرائیلی کوشش کی بین الاقوامی سطح پر مذمت ہوئی ہے لیکن بدھ کے روز غیر نادم اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے قطر کو خبردار کیا کہ یا تو وہ حماس کے عہدیداروں کو بے دخل کرے یا "انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائے کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو ہم کریں گے۔"
تیس سالوں میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والے نمایاں ترین عرب ملک متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے تبصرے کو "مخالفانہ" قرار دیتے ہوئے مذمت کی جیسا کہ ملک کے صدر شیخ محمد بن زاید نے خلیجی عرب ممالک کا دورہ کیا جس کا مقصد اسرائیلی حملے پر اپنے مؤقف کے بارے میں رابطہ کاری کرنا تھا۔
دوحہ حملہ خاص طور پر اس بنا پر حساس ہے کہ قطر غزہ جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کر رہا ہے۔
دوحہ اس اتوار اور پیر کو اسرائیلی حملے پر تبادلۂ خیال کے لیے ایک ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
یاد رہے کہ صحت کے مقامی حکام کے مطابق غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے دوران اب تک 64,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔