یو این سیکرٹری اور امیرِ قطر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، دوحہ پر اسرائیلی حملے سےمتعلق گفتگو

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مطابق یہ حملہ ’معصوم جانوں کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد سے ٹیلی فونک رابطے میں نہ صرف قطر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ دوحہ پر اسرائیلی حملے پر گہری تشویش بھی ظاہر کی۔

گوتیریس کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی صریح خلاف ورزی اور قطر سمیت پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ پائیدار جنگ بندی کو یقینی بنایا جانا چاہیے، نہ کہ اُن راستوں کو ختم کیا جائے جو اس کی طرف لے جاتے ہیں۔

ادھر امیرِ قطر نے واضح کیا کہ دوحہ اپنی سرزمین اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ ان کے بقول یہ بزدلانہ حملہ نہ صرف معصوم جانوں کی توہین ہے بلکہ ایک ایسی خطرناک خلاف ورزی بھی ہے جو خطے اور عالمی امن و استحکام کو براہِ راست نقصان پہنچاتی ہے۔

اسی تناظر میں آج سلامتی کونسل نے اسرائیلی فضائی حملوں کی سخت مذمت کی، جن کا ہدف دوحہ میں حماس کی قیادت تھی۔ اُس متفقہ بیان میں، جس کے لیے امریکہ سمیت تمام اراکین کی منظوری ضروری تھی، 15 رکنی کونسل نے واضح کیا کہ دوحہ پر حالیہ حملے ناقابلِ قبول ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جو غزہ میں جنگ بندی کے لیے مرکزی ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ بیان میں قطر کی خودمختاری اورزمینی سالمیت کی بھرپور تائید بھی کی گئی۔

دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی کوشش کے بعد، قطر کے وزیراعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن نے جمعرات کو واضح کیا کہ اسرائیل اپنی مذموم پالیسیوں کو اخلاقی و قانونی حدود کے بغیر آگے بڑھانا چاہتا ہے، لہٰذا اس کے خلاف ایک ٹھوس اور سخت موقف اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں