اسرائیلی حملے کے جواب پر غور کے لیے دوحہ میں عرب و اسلامی سربراہی اجلاس

قطری وزیر اعظم نے خطے میں اسرائیل کے جرائم پر اس کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

قطر کا دار الحکومت دوحہ آج پیر کے روز ایک عرب و اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے جس میں متعدد عرب و اسلامی ممالک کے رہنما اور قائدین شریک ہیں۔ اجلاس کا مقصد قطری سرزمین پر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں مشترکہ لائحہ عمل پر غور کرنا ہے۔

گزشتہ شب دوحہ میں 57 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اسرائیلی حملے کے حوالے سے مجوزہ اعلامیے پر بحث کی گئی۔ یہ حملہ منگل کو دوحہ میں پیش آیا تھا جب اسرائیلی بم باری سے حماس کے بعض رہنماؤں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی نے اجلاس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اس کے خطے میں جرائم پر سزا دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ قطر، مصر اور امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

اجلاس کے لیے تیار کیے گئے مسودہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ قطر پر اسرائیلی جارحیت اور اسرائیلی اقدامات کے تسلسل نے امن کے امکانات کو کمزور کر دیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی تمام کوششوں اور معاہدوں (موجودہ اور آئندہ) کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مسودے میں اسرائیلی دھمکیوں کو بھی مسترد کیا گیا جن میں قطر یا کسی دیگر عرب و اسلامی ملک کو دوبارہ نشانہ بنانے کی بات کی گئی تھی۔ اعلامیہ کے مطابق قطر پر یہ حملہ براہِ راست ان کوششوں کو کمزور کرنے کی سازش ہے جو غزہ پر حملوں کو روکنے کے لیے جاری ہیں۔

سعودی وزارت خارجہ نے بتایا کہ وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی حملہ عالمی قوانین اور اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا کہ اس سربراہی اجلاس کے انعقاد کا مطلب ہے کہ قطر تنہا نہیں بلکہ عرب اور اسلامی ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یاد رہے کہ قطر میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈا موجود ہے اور وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے امریکا اور مصر کے ساتھ ثالثی بھی کر رہا ہے۔

منگل کے روز اسرائیل نے دوحہ کے ایک رہائشی علاقے پر بم باری کی تھی جس میں چھ افراد جاں بحق ہوئے، ان میں ایک قطری سکیورٹی افسر بھی شامل تھا۔ ہلاک شدگان میں خلیل الحیہ کا بیٹا بھی شامل تھا جو حماس کے نمایاں بیرونِ ملک رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے دفتر کے عملے کے سربراہ بھی جاں بحق ہوئے۔ حماس کے مطابق اس حملے میں اس کی اعلیٰ قیادت ایک قتل کی کوشش سے محفوظ رہی۔

اس حملے پر عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی غیر معمولی طور پر اسرائیل پر تنقید کی۔ ٹرمپ نے قطر کو امریکا کا اہم اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو حماس سے نمٹنے میں آزادی ضرور ہے، لیکن اسے چاہیے کہ اپنے اہداف کے انتخاب میں محتاط رہے۔

قطر، مصر اور امریکا کے ساتھ مل کر اب بھی غزہ میں جاری "اسرائیل-حماس" جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں