غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیل تنہا ہوگیا: نیتن یاہو کا اعتراف

اقتصادی تنہائی کا مقابلہ کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی: اسرائیلی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو بیرون ملک منفی پروپیگنڈے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اقتصادی تنہائی کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اثر و رسوخ کی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

یہ بات نیتن یاہو نے وزارت خزانہ کی ایک کانفرنس کے دوران کہی جہاں انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ پر بین الاقوامی تنقید کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تنہائی کا غیر معمولی طور پر اعتراف کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو پابندیوں اور دیگر اقدامات کی شکل میں ایک اقتصادی خطرہ درپیش ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اس تنہائی کی وجہ یورپ میں اقلیتیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ قطر جیسے ممالک بھی ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی بیانیے کو تشکیل دینے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ یہ سب اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے اور اس کے بین الاقوامی مقام کو متاثر کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ یہ اسرائیل کے لیے ایک قسم کی تنہائی پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس تنہائی سے نکل سکتے ہیں لیکن ہمیں انسدادی اقدامات میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ خاص طور پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ کی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی صنعتوں کا دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت پر انحصار کم کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم خود کو صرف تحقیق اور ترقی کے میدان میں ہی نہیں بلکہ حقیقی صنعتی پیداوار میں بھی شامل کریں گے۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو زیادہ خود انحصار بنانے کے لیے ترقی دینا شروع کر دینا چاہیے۔ اس میں ہتھیار اور دیگر دفاعی مصنوعات بھی شامل ہونی چاہئیں۔

دوسری طرف اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے یہ کہہ کر جواب دیا ہے کہ بین الاقوامی تنہائی نیتن یاہو اور ان کی ناکام اور غلط پالیسی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے"ایکس" پر لکھا کہ نیتن یاہو اسرائیل کو تیسری دنیا کے ممالک میں تبدیل کر رہے ہیں اور وہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی نہیں کر رہے۔ اسرائیل دوبارہ کامیابی اور مقبولیت حاصل کر سکتا ہے اور ایک ایسی خوشحال معیشت سے لطف اندوز ہو سکتا ہے جو پہلی دنیا کی معیشت کے برابر ہو۔

اسرائیل کے بینک، وزارت خزانہ اور دیگر اداروں کے 80 سابق ماہرین اقتصادیات کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ غزہ پر حکومت کا قبضہ جاری رکھنے کا فیصلہ غزہ اور اسرائیل دونوں کے لیے نقصان دہ ہو گا۔ انہوں نے فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے کی بھاری لاگت اور یورپی پابندیوں سے ہونے والے اقتصادی نقصانات کی طرف اشارہ کیا جو تجارت کو نقصان پہنچائیں گے۔

غزہ میں جنگ حماس کے عسکریت پسندوں کے اسرائیل کے جنوب میں کیے گئے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ حماس کے حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حماس نے 251 اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ 47 اسرائیلی اب بھی غزہ کی پٹی میں یرغمال ہیں۔ اسرائیلی نے سات اکتوبر 2023 کو غزہ پر تاریخ کی بدترین قتل و غارت گری شروع کردی تھی۔ تب سے لے کر اب تک صہیونی فورسز نے 64000 سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ 9000 افراد لاپتہ ہیں۔ شہید ہونے والوں میں 20000 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں