قومی مفادات پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی، کسی بھی غلطی کا بھرپور جواب دیں گے : ایرانی فوج

اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ "جدید اور اعلیٰ دفاعی ٹیکنالوجی کو ترقی دی جائے، محافظ فوج کو مضبوط کیا جائے اور مرکب جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری رکھی جائے".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران اور یورپی ٹرائیکا (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) کے درمیان جوہری مسئلے پر مذاکرات کے سلسلے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اپنے قومی مفادات پر کوئی سودے بازی نہیں کرے گا۔

خبر رساں ایجنسی "تسنیم" کے مطابق موسوی نے پیر کے روز خبردار کیا کہ "اگر دشمن نے نئی غلطیاں کیں تو اسے ایسا سخت جواب ملے گا جس پر اسے پچھتانا پڑے گا۔"

عراق-ایران جنگ کی برسی کے موقع پر اپنے خطاب میں موسوی نے کہا کہ "دشمن 12 روزہ جنگ میں ایرانی فوجی اور دفاعی طاقت، علاقائی صلاحیتوں اور ہماری مسلح افواج کے فیصلہ کن و متناسب جواب کے سامنے ناکام رہا۔"

موسوی نے مزید کہا کہ "جدید اور اعلیٰ دفاعی ٹیکنالوجی کو ترقی دینا، محافظ فوج کو بڑھانا اور مرکب جنگ خصوصاً دشمن کی ادراکی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا نا گزیر ہے"۔ ان کا اشارہ اسرائیل کی طرف تھا۔

موسوی نے زور دے کر کہا کہ ایرانی افواج "تزویراتی حیرت پر انحصار کرتے ہوئے دنیا کے ظالموں کے کسی بھی خطرے کا فوری، فیصلہ کن اور مزاحمتی جواب دینے کے لیے تیار ہیں، جو تصور سے بھی بڑھ کر ہو گا۔"

یہ بیانات ان اطلاعات کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا کہ موساد نے جون میں شروع ہونے والی 12 روزہ جنگ سے پہلے ایران کے اندر تقریباً 100 غیر ملکی ایجنٹ تعینات کیے تھے۔ بتایا گیا کہ ان کا ہدف ایرانی بیلسٹک میزائل لانچنگ پلیٹ فارموں اور فضائی دفاعی نظام تھے، ساتھ ہی انھوں نے اسرائیلی فضائی حملوں کو براہِ راست سپورٹ بھی فراہم کی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران یورپی ٹروئیکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مستقل طور پر ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے سے انکار کیا تھا۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اگست کے آخر میں 30 روزہ عمل شروع کیا تھا تاکہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی جا سکیں۔ ان ممالک نے تہران پر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جو ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کے لیے طے پایا تھا۔

اگر اس مدت میں ایران اور یورپی طاقتوں کے درمیان التوا پر اتفاق نہ ہو سکا تو اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی، جن میں اسلحے پر پابندی، یورینیم کی افزودگی اور ری پروسیسنگ پر قدغن، ایٹمی ہتھیار لے جانے کے قابل بیلسٹک میزائل سرگرمیوں پر پابندی اور دنیا بھر میں ایرانی افراد، اداروں اور اثاثوں پر پابندیاں شامل ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں