کان کنی کانفرنس میں سعودی وفود کی شرکت ، معدنیات کی دریافت و ترقی سے متعلق نمائش کااہتمام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کان کنی سے متعلق کانفرنس میں سعودی عرب نے مملکت میں کی گئی اصلاحات اور کان کنی کے حوالے سے سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے ایک نمائش کا اہتمام کیا۔ تاکہ سعودی عرب میں معدنیات کی تلاش ، بہاؤ اور ان کے عالمی معیار کے ایک پروسیسنگ مرکز کے طور پر اپنے آپ کو پیش کر سکیں۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے معدنی وسائل سے متعلق وزارت جیولوجیکل سروے اور معدنیات سے متعلق سروسز کمپنی کے وفود پر مشتمل ایک ٹیم نے پیرو کانفرنس میں مملکت کے معدنیات کے حوالے سے عزم کو نمایاں کیا ہے۔

سعودی ٹیم نے فیوچر منرل فورم کے پانچویں ایڈیشن کے لیے کوششوں کا ذکر کیا۔ جس کا انعقاد امکانی طور پر جنوری 2026 میں متوقع ہے۔

سعودی عرب کی پیرو کانفرنس میں شرکت ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب سعودی عرب میں معدنیات کی دریافت اور پروسیسنگ کے حوالے سے خصوصی طور پر فوکس کیا جا رہا ہے۔ ان مین فاسفیٹ، لوہا، ایلومینیم، تانبا، سونا اور دیگر ایم معدنیات شامل ہیں۔ جن کی مجموعی پیداوار میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پچھلے ماہ اگست میں مرتب کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کا تخمینہ 180 ارب ریال ہے۔

اس خطیر سرمایہ کاری کا مقصد مملکت میں معدنیات پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا اور مملکت کو معدنیات کے حوالے سے ایک اہم مرکز کے طور پر اجاگر کرنا ہے۔

پیرو میں ہونے والی 37ویں کانفرنس کے دوران معدنی وسائل کی ترقی کے نائب وزیر عبدالرحمن البلوشی نے کہا کہ سعودی عرب اور پیرو معاشی ترقی کے لیے کان کنی سے فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

البلوشی کے مطابق ویژن 2030 کے تحت بھی کان کنی کو قومی معیشت میں تیسرا اہم ستون بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

معدنیات کی دریافت اور پروسیسنگ کو ایک سٹریٹجک اہمیت حاصل ہے۔

نائب وزیر نے کہا سعودی عرب کے پاس معدنی وسائل کی مالیت 9.4 ٹریلین ریال سے بھی زیادہ ہے۔ اس پس منظر میں سعودی عرب نے سرمایہ کاروں کے لیے کئی پرکشش پالیسیاں بنائی ہیں۔ تاکہ دنیا بھر سے سرمایہ کاروں کو اس منافع بخش اور ترقی کرنے والے شعبے میں لایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں