اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو بدھ کے روز تل ابیب کی عدالت میں بدعنوانی کے ایک دیرینہ مقدمے کی تازہ ترین سماعت کے لیے دوبارہ پیش ہوئے جو مئی 2020 میں شروع ہوا تھا۔
ٹربیونل کی طرف جاتے ہوئے وزیرِ اعظم اور ان کی قدامت پسند لیکود پارٹی کے متعدد وزراء کے وفد کا نعرے لگانے والے مظاہرین سے سامنا ہوا لیکن انہوں نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ برقرار رکھی۔
پیر کو صدر ٹرمپ نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو بدعنوانی کے تین الگ الگ مقدمات میں معافی ملنی چاہیے۔
تل ابیب کی عدالت میں ان کی پیشی غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال قیدیوں کی واپسی کے بعد ہوئی ہے جو غزہ امن منصوبے کے تحت عمل میں آئی۔
ایک کیس میں نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاسی مفادات کے عوض ارب پتیوں سے 260,000 ڈالر سے زائد مالیت کی پُرتعیش اشیا بشمول شیمپیئن، سگار اور زیورات وصول کیے۔
دو دیگر واقعات میں نیتن یاہو پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے دو اسرائیلی میڈیا اداروں سے بہتر پریس کوریج کے لیے معاملات طے کیے۔ تاہم انہوں نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے کہ انہیں سیاسی رسہ کشی کا شکار بنایا گیا ہے۔
اپنی موجودہ میعاد کے دوران نیتن یاہو نے دور رس عدالتی اصلاحات کی تجویز پیش کی ہے جن کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ یہ عدالتوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
پیر کو اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب میں ٹرمپ نے چیمبر سے کہا کہ نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات میں معافی ملنی چاہیے۔
انہوں نے ازراہِ مذاق کہا، "آخر سگار اور شیمپیئن کی پرواہ کون کرتا ہے؟" پھر اپنے اسرائیلی ہم منصب آئزک ہرتصوغ سے پوچھا: "آپ انہیں معافی کیوں نہیں دے دیتے؟"
غزہ میں حماس کے خلاف جنگی جرائم کا حکم دینے کا شبہے میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی طرف سے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری بھی اسرائیلی وزیرِ اعظم کے خلاف جاتے ہیں۔
نیتن یاہو اسرائیلی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے سب سے زیادہ سال گذارنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ 1996 سے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے انہوں نے 18 سال تک کئی ادوار میں خدمات انجام دیں۔