ثالثوں اور صدر ٹرمپ کی طرف سے یقین دہانیوں سے تصدیق ہوتی ہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے : الحیہ
غزہ کی پٹی میں حماس کے سربراہ اور تنظیم کے مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ حماس مکمل طور پر جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی پابند ہے، جو علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کی ثالثی سے طے پایا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
خلیل الحیہ نے بتایا کہ ثالثوں اور موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف کرائی گئی یقین دہانیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی جنگ ختم ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا "ہمیں جو پیغام ثالثوں اور صدر ٹرمپ سے ملا ہے، اس سے اطمینان ہوتا ہے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے"۔
الحیہ نے مزید کہا کہ "ٹرمپ کی سرپرستی میں قائم بین الاقوامی ارادہ ہی اس امن معاہدے کے نفاذ کی ضمانت ہے"۔ الحیہ کے مطابق مصر کی میزبانی میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں ہونے والی بین الاقوامی امن کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کا اختتام ہو چکا ہے۔ یہ کانفرنس رواں ماہ اکتوبر میں شرم الشیخ میں منعقد ہوئی.
انھوں نے جرمن خبر رساں ادارے (ڈی پی اے) کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "حماس تمام اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی بازیابی کے لیے سنجیدہ ہے، مگر شدید تباہی کے باعث یہ عمل مشکل بن گیا ہے"۔
الحيہ نے کہا کہ "ہم نے ثالثوں اور امریکی صدر سے جو کچھ سنا، وہ اطمینان بخش ہے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ حماس کے پاس جنگ بندی معاہدے کے مکمل نفاذ کا مضبوط عزم ہے ... اور یہ سب فلسطینی دھڑوں کے ساتھ ہم آہنگی میں کیا جا رہا ہے"۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ غزہ میں انسانی امداد کی مقدار میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ جنگ سے متاثرہ آبادی کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ حماس کے رہنما نے کہا کہ تنظیم تمام بین الاقوامی کوششوں کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جو جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور معمولاتِ زندگی بحال کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ نافذ ہوئے تقریباً دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ یہ معاہدہ مصر، قطر، ترکی اور امریکہ کی ثالثی سے طے پایا تھا۔ اس معاہدے نے دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کا خاتمہ کیا جس میں دسیوں ہزار افراد ہلاک یا زخمی ہوئے اور غزہ کی بڑی آبادیاں تباہ ہو گئیں۔
معاہدے میں قیدیوں کے تبادلے، دونوں فریقوں کی لاشوں کی حوالگی، انسانی امداد اور ایندھن کے داخلے میں توسیع اور تعمیرِ نو کے انتظامات شامل ہیں۔
فریقین کے درمیان اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کا مسئلہ اب بھی ایک حساس موضوع ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق حماس کے پاس کئی فوجیوں کی لاشیں موجود ہیں، جب کہ حماس کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
علاقائی ثالثوں، خصوصاً قطر اور مصر کی کوششیں جاری ہیں تاکہ جنگ بندی کو پائے دار بنایا جا سکے اور معاہدے کی تمام شقوں پر عمل ہو۔ ان میں مزید فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کی واپسی بھی شامل ہے۔
اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں کے مطابق غزہ کی انسانی صورتِ حال اب بھی نہایت نازک ہے۔ صرف چند سو امدادی ٹرک داخل ہو سکے ہیں، جب کہ چوبیس لاکھ کی آبادی کی ضروریات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے نصف سے زیادہ اسپتال خدمت سے خارج ہو چکے ہیں۔ آبادی شدید حد تک پانی، خوراک اور دواؤں کی کمی کا سامنا کر رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے ذریعے امداد کے داخلے کی اجازت دے رہا ہے مگر حماس اس جنگ بندی کو سیاسی و عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ حماس اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیل الحیہ کے بیان کا مقصد بین الاقوامی ثالثوں کو یقین دہانی کرانا اور یہ واضح کرنا ہے کہ حماس جنگ بندی کے معاہدے پر پوری طرح کاربند ہے، تاکہ غزہ میں تعمیرِ نو کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
-
حماس نے غزہ معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ہم اسے تباہ کر دیں گے: ٹرمپ
سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیتن یاہو کو غزہ معاہدے کو خطرے میں ڈالنے کے خلاف ...
مشرق وسطی -
غزہ میں ہتھیار پھینکنے کے معاملے پر قومی قوتوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں:حماس
’ اگر قومی اتفاق ہو تو کسی بھی فریق کے غزہ کے انتظام سنبھالنے کی حمایت کریں گے‘
بين الاقوامى -
حماس خفیہ طور پر غزہ کی حکومت میں شریک ہونے جا رہی ہے : اسرائیلی نشریاتی ادارہ
ہم سب غزہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُر عزم ہیں : خلیل الحیہ
بين الاقوامى