سعودی عرب نے سیاحت کے شعبے میں ایک نیا سنگ میل قائم کرتے ہوئے "حلم الصحراء"(صحراء کا خواب) کے نام سے مشہور اپنے پہلے پانچ ستارہ لگژری ٹرین منصوبے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ و لاجسٹک سروسز انجینئر صالح الجاسر نے بتایا کہ یہ منصوبہ مملکت کے نقل و حمل کے نظام میں انقلابی تبدیلی لائے گا، جب کہ اس کا باقاعدہ آغاز آئندہ سال 2026 کے اختتام سے قبل ہوگا اور بکنگ رواں سال کے آخر تک شروع کر دی جائے گی۔
یہ منصوبہ سعودی عرب میں سیاحتی ٹرانسپورٹ کے تصور کو ایک نئے دور میں داخل کرے گا، جو کلاسیکی شان و شوکت اور جدید ڈیزائن کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے اور مسافروں کو ایک مکمل فائیو اسٹار ہوٹل جیسا تجربہ فراہم کرے گا جو سعودی صحرا کی ریت میں سفر کرے گا۔
ریت کے بیچ شاہانہ سفر
"حلم الصحراء" میں 33 شاندار سوئٹس ہیں جو صرف 66 مہمانوں کے لیے مختص ہوں گی۔ ہر کیبن اطالوی مہارت اور سعودی ثقافتی روح کے امتزاج سے تیار کیا گیا ہے۔ ان میں عالیشان بستروں والے بیڈ رومز، ذاتی باتھ رومز اور فائیو اسٹار معیار کی سہولیات شامل ہیں۔ ٹرین کے ریستورانوں میں عربی اور سعودی روایتی کھانوں کے ساتھ بین الاقوامی ذائقے اطالوی انداز میں پیش کیے جائیں گے، جنہیں ماہر شیف تیار کریں گے۔
الرئيس التنفيذي للشركة المنفذة لقطار #حلم_الصحراء: أولى رحلات القطار ستكون في نهاية 2026 وسيكون جاهزا لتسيير رحلات لـ #دول_الخليج بعد اكتمال مشروع السكك الحديدية الخليجي pic.twitter.com/2FlnxCaZIn
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) October 28, 2025
ٹرین میں ایک خوبصورت مجلس لاؤنج بھی شامل ہے جس کا ڈیزائن سعودی صحرا کے قدرتی رنگوں اور لکڑی سے متاثر ہے۔ اس کے ڈیزائن کی نگرانی معروف معمار اِلین اسمر دامان نے کی ہے، جو اٹلی کی "کلچر اِن آرکیٹیکچر" کمپنی کی بانی ہیں اور انہوں نے سعودی ورثے کو اطالوی فن کے امتزاج سے ہم آہنگ کیا ہے۔
عالمی توجہ کا مرکز
ریاض میں منعقدہ "فیوچرانویسمنٹ اینی شی ایٹیو" کانفرنس کے دوران اس لگژری ٹرین کا پہلا ڈبہ پیش کیا گیا، جس نے عالمی سرمایہ کاروں اور شرکاء کو حیران کر دیا۔ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ اتیاس نے کہاکہ "جب میں ٹرین میں داخل ہوا تو باہر آنے کا دل نہیں چاہا۔ میں نے درخواست کی کہ مجھے اس کی پہلی سواری میں شامل کیا جائے، کیونکہ یہ تجربہ تمام توقعات سے بڑھ کر ہے"۔
ان کا کہنا تھا کہ "یہ منصوبہ عالمی سطح پر لگژری ٹورازم کے شعبے میں ایک نمایاں اثر ڈالے گا اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے ویژن کو حقیقت کا روپ دے رہا ہے"۔
سعودی سیاحت کی حسین منزلوں کا سفر
"حلم الصحراء" اپنی پہلی منزل کے طور پر درعیہ یا اس کے قریبی اسٹیشن سے روانہ ہوگا اور ریاض سے جدہ، العلا اور نیوم تک سفر کرے گا، جو مملکت کے معروف سیاحتی مقامات میں شامل ہیں۔ یہ ٹرین موجودہ ریلوے نیٹ ورک کا استعمال کرے گی، جو ریاض کو شمالی سعودی عرب سے جوڑتا ہے۔
مسافروں کو منتخب اسٹیشنوں پر قیام کا موقع بھی ملے گا تاکہ وہ قدرتی مناظر اور تاریخی مقامات کا قریب سے مشاہدہ کر سکیں۔ یوں یہ منصوبہ پائیدار اور معیاری سیاحت کی نئی علامت بن جائے گا۔
قومی ٹرانسپورٹ حکمتِ عملی کا حصہ
"العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ صالح الجاسر نے بتایا کہ "حلم الصحراء" منصوبہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے شروع کی گئی قومی ٹرانسپورٹ و لاجسٹک حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کو ایک عالمی لاجسٹک مرکز بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی کامیابی کو اس بنیاد پر ناپتی ہے کہ وہ کس حد تک دیگر شعبوں جیسے حج و عمرہ، سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کو مضبوط بناتی ہے۔ ان کے مطابق لاجسٹک سیکٹر اب ویژن 2030 کی ایک کلیدی بنیاد بن چکا ہے اور اب تک نجی شعبے کی سرمایہ کاری 200 ارب ریال سے تجاوز کر چکی ہے۔
سعودی – اطالوی اشتراک، عالمی ویژن کے ساتھ
وزیر ٹرنسپورٹ نے بتایا کہ یہ منصوبہ سعودی ریلوے کمپنی "سار" اور ایک اطالوی کمپنی کے اشتراک سے مکمل کیا جا رہا ہے، جو لگژری ٹرینوں کے آپریشن میں مہارت رکھتی ہے۔ اس وقت مملکت میں 6 ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ریلوے نیٹ ورک موجود ہے، جس میں حرمین ایکسپریس، معدنیات اور مشاعر ٹرینیں شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ "یہ منصوبہ اسی مضبوط انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نیا اور منفرد سفری تجربہ فراہم کرے گا، جس کی تیاری وزارتِ ثقافت کے تعاون سے کی گئی ہے تاکہ اس میں سعودی شناخت اور روایتی معمارانہ عناصر جھلکیں"۔
صالح الجاسر نے بتایا کہ بکنگ اس سال کے آخر تک کھول دی جائے گی جبکہ باقاعدہ آپریشن 2026 کے اختتام سے پہلے شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ "یہ منصوبہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور سعودی ٹرانسپورٹ سیکٹر کی مضبوط معیشت و قوانین کا مظہر ہے"۔
ایک نیا سفری استعارہ
"حلم الصحراء" کے آغاز کے قریب آتے ہی یہ منصوبہ عالمی سطح پر لگژری ٹریول کی نئی علامت بننے جا رہا ہے جو سعودی صحراؤں کی کہانی کو شان و دلکشی کی زبان میں سنائے گا اور مملکت کی سیاحت کے دروازے ایک نئے افق کی جانب کھول دے گا۔
-
سعودی عرب کا سوڈان کے علاقے الفاشر میں سنگین انسانی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے سوڈان کے شہر الفاشر پر حالیہ حملوں میں پیش آنے والی ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب سے سیکھ رہے ہیں، عالمی معیشت کے قیام کا مشترکہ عزم رکھتے ہیں:برطانوی وزیرِ
ریاض کے تجربے سے استفادہ اور سرمایہ کاری ماڈل تیار کرنا لندن کا ہدف ہے
بين الاقوامى -
ترکیہ سعودی تعلقات پیش رفت، امکانات اور چیلنج
ترکیہ کی آزادی کے لیے جنگ مصطفیٰ کمال اتا ترک کے زیر قیادت پہلی عالمی جنگ کے بعد ...
سیاست