پورے خطے کے بنیادی ڈھانچے میں ہماری بڑی اور مسلسل سرمایہ کاری جاری ہے : نائب چیف ایگزیکٹو

نیوم کا منصوبہ آئندہ نسلوں تک جاری رہنے والا منصوبہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں نیوم منصوبے کے نائب چیف ایگزیکٹو آفیسر ریان فائز نے کہا ہے کہ پورے خطے میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے بڑے اور مسلسل منصوبے جاری ہیں۔

انھوں نے ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (FII) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیوم کا منصوبہ آئندہ نسلوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے ... اور ہم نے کبھی یہ ہدف نہیں رکھا کہ اسے 2030 تک مکمل کر لیا جائے۔

ریان فائز نے مزید کہا "ہمیں اپنے جاری منصوبوں کی معاشی افادیت کا مستقل طور پر ازسرِ نو جائزہ لینا چاہیے، بجٹوں کی باقاعدہ نظرثانی ہونی چاہیے اور توجہ ان منصوبوں پر مرکوز رہنی چاہیے جو معاشی طور پر کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ "یہ بھی ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھتے رہیں کہ کون سے منصوبے فائدہ مند ہیں اور کون سے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔

ریان فائز کے مطابق نیوم کے حجم اور نوعیت کو سمجھنے کے لیے علاقائی پیش رفت اور حالات کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے۔
فائز نے کہا کہ نیوم منصوبہ پائے دار شہروں کے تصور کو از سرِ نو متعین کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جس کا رقبہ 26 ہزار مربع کلو میٹر سے زیادہ ہے۔ یعنی یہ کئی ممالک کے سائز کے برابر ہے۔

ریان فائز نے بتایا کہ منصوبے کے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس میں منصوبے کے لیے مخصوص ایئرپورٹ بھی شامل ہے جو پورے خطے کی ضروریات پوری کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ منصوبوں کی تکمیل کی شرح 80 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ بھی نیوم میں کئی نئی سرمایہ کاریاں آنے والی ہیں، اور ان سب کی مرکزی خصوصیت یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی تیاری پہلے مکمل کی جائے گی تاکہ مستقبل میں رہائشیوں اور سیاحوں کے استقبال کے لیے علاقہ تیار ہو۔

آخر میں ریان فائز نے کہا کہ نیوم کا ہدف 90 لاکھ آبادی تک پہنچنا ہے، جو کہ اس منصوبے کا طویل مدتی تزویراتی مقصد ہے۔ اس پر کام ایک وسیع اور کثیرالمقاصد ترقیاتی منصوبے کے تحت جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں