سوڈان میں تشدد کا خوفناک خواب جاری ہے، اسے ختم ہونا چاہیے : یو این سیکرٹری جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے منگل کے روز سوڈان کے متحارب گروپوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ کو روک دیں۔ اس جنگ کی وجہ سے بحران تیزی سے پھیل رہا ہے اور صورتحال ایک خوفناک خواب سے بھی زیادہ خطرناک ہو چکی ہے۔

یو این سیکرٹری جنرل کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پیرا ملٹری فورس ایک اہم شہر پر کنٹرول کر چکی ہے۔

گوتریس نے دونوں گروپوں سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور اس تشدد کے سلسلے کو روکیں کیونکہ سوڈان کا بحران خوفناک ہوتا جا رہا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے دوحہ میں ورلڈ سمٹ فار سوشل ڈویلپمنٹ کی سائیڈ لائنز میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے سوڈان میں جنگی سنگینی کا ذکر کیا۔

یاد رہے اکتوبر کے اختتام پر 'آر ایس ایف' نے اہم شہر الفاشر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس سے پہلے اس نے 18 ماہ تک اس شہر کا محاصرہ جاری رکھا۔

سوڈانی فوج اور 'آر ایس ایف' کے درمیان 2023 سے جنگی سلسلہ جاری ہے ۔ سوڈان کے عوام اس جنگ میں بے گھر ہونے کے علاوہ بڑی تعداد میں جانیں دے چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

الفاشر اور اس کے اردگرد کا علاقہ جو شمالی دارفور کا حصہ ہے بدترین مصائب کا علاقہ بن چکا ہے۔

سیکرٹری جنرل گوتریس نے کہا ان علاقوں میں بھوک، تشدد اور نقل مکانی کے مسائل حد سے بڑھ چکے ہیں اور پچھلے ہفتے کے اختتام سے 'آر ایس ایف' نے الفاشر پر قبضہ کیا ہے صورتحال ہر آنے والے دن میں ابتر ہو رہی ہے۔ لاکھوں شہری محاصرے کی وجہ سے پھنس کر رہ گئے ہیں۔ غذائی قلت کی وجہ سے لوگوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں، بیماریاں پھیل رہی ہیں اور تشدد بڑھ رہا ہے۔

انتونیو گوتریس نے پرتشدد واقعات کی ان رپورٹس کا بھی حوالہ دیا جو انسانی حقوق سے متعلق اداروں اور تنظیموں کی طرف سے پیش کی جا رہی ہیں۔

اس موقع پر سیکرٹری جنرل نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی طرف بھی توجہ دلائی اور افسوس کا اظہار کیا۔ جہاں حماس نے غزہ میں اسرائیل کی تازہ بمباریوں کا ذکر کیا ہے کہ 3 قیدیوں کی لاشیں وصول کرنے کے بعد اسرائیل نے ہفتہ کی شام غزہ میں بدترین بمباری کی اور منگل کے روز 100 سے زائد لوگوں کو ہلاک کیا۔

غزہ کے شہری دفاع کے ادارے کے مطابق 19 اکتوبر کو اسرائیلی بمباری سے 45 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اس پر منگل کے روز سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ بہت پریشان ہیں اور انہیں سخت تشویش ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ ان خلاف ورزیوں کو لازماً روکا جانا چاہیے اور ان فیصلوں پر عمل کرنا چاہیے جو جنگ بندی منصوبوں میں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں