گذشتہ دو دنوں کے دوران دمشق کی ایک سڑک پر ہسپتال کے سامنے ایک نوجوان مریض کو بستر پر لیٹے ہوئے دکھانے والی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس نے شامی عوام میں شدید غصہ اور تنقید کی لہر پیدا کر دی۔
متعدد شہریوں نے سوشل میڈیا پر اس منظر کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مریض کو سڑک پر پھینک دینا ناقابلِ قبول عمل ہے۔
بعض صارفین نے دمشق کے المواساہ ہسپتال پر الزام عائد کیا، جبکہ کچھ نے کہا کہ یونیورسٹی ہسپتال نے مریض کو داخل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
أنما بُعثت لأتمم مكارم الأخلاق.
— صخر ادريس Sakher Edris - (@SakherEdris) November 6, 2025
ما فعلته إدارة المشفى الوطني الجامعي في دمشق بوضع طفل مريض في الشارع، ثم رفض استقباله من مشفى المواساة وصمة عار، فلا ينسجم مع الأخلاق ولا مع ميثاق أبقراط، إلا إذا ظنوه نصا احتفاليا ساعة التخرج.
عذرا بني، من تجاهلك في الشارع ايضا شريك في الذنب. pic.twitter.com/A5fc4RU3W2
تاہم یونیورسٹی نیشنل ہسپتال کے ڈائریکٹر عبدالغنی الشریف نے واقعے کی تفصیلات واضح کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والا نوجوان عبدالشافی اسماعیل ہے، جس کی عمر 18 سال ہے۔ اس نوجوان کا حال ہی میں یونیورسٹی ہسپتال میں ایک سعودی ماہر ڈاکٹر نے آپریشن کیا تھا۔
شامی ٹی وی چینل کے مطابق انہوں نے بتایا کہ جراحی کے بعد مریض کو مزید آپریشن کے لیے المواساہ ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی گئی تھی اور ہسپتال انتظامیہ نے اس منتقلی کا بندوبست کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
أزمة صحية أخلاقية تطال كادر مشفى #المواساة الذي مازال يحتفظ بموظفيه السابقين الذين كانوا غطاء لجرائم النظام السابق
— عين على سوريا (@Ain_ala_syria) November 7, 2025
طرد طفل مريض و رميه في الشارع لان الطبيب الاستشاري غادر المشفى باكرا !!
والطفل لم يستعيد وعيه من البنج كما يجب#وزارة_الصحة #أحمد_الشرع pic.twitter.com/o792foij6C
لیکن ہسپتال ڈائریکٹر کے مطابق مریض کے ساتھ موجود بغیر اجازت نوجوان کو بستر سمیت ہسپتال سے باہر لے آیا اور داخلی دروازے کے قریب رکھ دیا تاکہ اسے خود منتقل کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چچا نے اس موقع پر نوجوان کی تصویر لے کر واٹس ایپ پر شیئر کر دی، پھر ٹیکسی کے ذریعے اسے المواساہ ہسپتال لے گیا، جہاں اس نے دوبارہ باہر اسٹریچر پر رکھ کر تصاویر کھینچیں۔
یہی تصاویر بعد میں تفصیلات کے بغیر سوشل میڈیا پر پھیل گئیں، جس سے طرح طرح کی افواہیں اور غلط اطلاعات گردش کرنے لگیں۔
حکام کے مطابق، نوجوان کو بعد ازاں دوبارہ یونیورسٹی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ وزارتِ تعلیمِ عالیہ نے تصدیق کی کہ جامعاتی ہسپتالوں کے ڈائریکٹر صلاح الدین الخطیب نے خود مریض سے ملاقات کی، اس کی خیریت دریافت کی اور واقعے کی مکمل تفصیل معلوم کی۔
-
سلامتی کونسل نے شامی صدر اور وزیر داخلہ کا نام پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فیصلہ کیا کہ شامی صدر احمد الشرع اور وزیر داخلہ ...
مشرق وسطی -
دمشق کے موقف کے لیے سعودی عرب کی حمایت ... شامی مندوب نے مملکت کا شکریہ ادا کیا
سلامتی کونسل نے صدر احمد الشرع اور اُن کے وزیرِ داخلہ انس خطاب کے نام پابندیوں کی ...
بين الاقوامى -
اقوامِ متحدہ: 2025 ریکارڈ میں تین سرِفہرست گرم ترین سالوں میں شامل
غیر معمولی درجۂ حرارت کے ایک تشویشناک سلسلے کے باعث سن 2025 اب تک کے گرم ترین ...
بين الاقوامى