دمشق میں سڑک پر پڑے مریض کی تصویر پر عوام میں شدید غم وغصہ،حکومت کا کیا موقف ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

گذشتہ دو دنوں کے دوران دمشق کی ایک سڑک پر ہسپتال کے سامنے ایک نوجوان مریض کو بستر پر لیٹے ہوئے دکھانے والی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس نے شامی عوام میں شدید غصہ اور تنقید کی لہر پیدا کر دی۔

متعدد شہریوں نے سوشل میڈیا پر اس منظر کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مریض کو سڑک پر پھینک دینا ناقابلِ قبول عمل ہے۔

بعض صارفین نے دمشق کے المواساہ ہسپتال پر الزام عائد کیا، جبکہ کچھ نے کہا کہ یونیورسٹی ہسپتال نے مریض کو داخل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تاہم یونیورسٹی نیشنل ہسپتال کے ڈائریکٹر عبدالغنی الشریف نے واقعے کی تفصیلات واضح کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والا نوجوان عبدالشافی اسماعیل ہے، جس کی عمر 18 سال ہے۔ اس نوجوان کا حال ہی میں یونیورسٹی ہسپتال میں ایک سعودی ماہر ڈاکٹر نے آپریشن کیا تھا۔

شامی ٹی وی چینل کے مطابق انہوں نے بتایا کہ جراحی کے بعد مریض کو مزید آپریشن کے لیے المواساہ ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی گئی تھی اور ہسپتال انتظامیہ نے اس منتقلی کا بندوبست کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

لیکن ہسپتال ڈائریکٹر کے مطابق مریض کے ساتھ موجود بغیر اجازت نوجوان کو بستر سمیت ہسپتال سے باہر لے آیا اور داخلی دروازے کے قریب رکھ دیا تاکہ اسے خود منتقل کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چچا نے اس موقع پر نوجوان کی تصویر لے کر واٹس ایپ پر شیئر کر دی، پھر ٹیکسی کے ذریعے اسے المواساہ ہسپتال لے گیا، جہاں اس نے دوبارہ باہر اسٹریچر پر رکھ کر تصاویر کھینچیں۔

یہی تصاویر بعد میں تفصیلات کے بغیر سوشل میڈیا پر پھیل گئیں، جس سے طرح طرح کی افواہیں اور غلط اطلاعات گردش کرنے لگیں۔

حکام کے مطابق، نوجوان کو بعد ازاں دوبارہ یونیورسٹی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ وزارتِ تعلیمِ عالیہ نے تصدیق کی کہ جامعاتی ہسپتالوں کے ڈائریکٹر صلاح الدین الخطیب نے خود مریض سے ملاقات کی، اس کی خیریت دریافت کی اور واقعے کی مکمل تفصیل معلوم کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں