امریکی محکمہ خزانہ کے پابندیوں کے اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ امریکہ لبنان میں ایک ایسے "مخصوص وقت" سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے جس میں وہ حزب اللہ کو ایرانی فنڈنگ منقطع کر سکے اور گروپ کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکے۔
جمعہ کو ایک انٹرویو میں دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے ماتحت سیکریٹری جان ہرلی نے کہا کہ ایران اس سال حزب اللہ کو تقریباً ایک بلین ڈالر دینے میں کامیاب رہا ہے حالانکہ مغربی پابندیوں سے اس کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔
امریکی اور مغربی پابندیوں کا مقصد ایران کی یورینیم کی افزودگی اور خطے بشمول لبنان میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے جہاں اس کی حمایت یافتہ حزب اللہ پہلے ہی اسرائیل سے جنگ کے بعد کمزور پڑ گئی ہے۔
گذشتہ ہفتے کے آخر میں واشنگٹن نے حزب اللہ کو فنڈز فراہم کرنے کے لیے منی ایکسچینج استعمال کرنے والے دو افراد پر پابندی عائد کی تھی۔
"لبنان میں اس وقت ہمارے پاس ایک مختصر وقت ہے۔ اگر ہم حزب اللہ کو غیر مسلح کر سکتے ہیں تو لبنانی عوام اپنا ملک واپس لے سکتے ہیں،" ہرلی نے کہا۔
"اس کی کلید ایرانی اثر و رسوخ اور کنٹرول کو ختم کرنا ہے جو اس تمام رقم سے شروع ہوتا ہے جو وہ حزب اللہ کو فراہم کر رہے ہیں،" انہوں نے ترکی، لبنان، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے دورے کے دوران استنبول میں رائٹرز کو بتایا جس اس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی پابندیوں سے ایرانی معیشت پر ضرب
ستمبر میں جوہری مذاکرات میں ناکامی کے بعد ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں بحال ہو گئیں جس کے بعد سے تہران کا رجحان چین اور روس کے ساتھ قریبی تعلقات کی طرف ہو گیا ہے۔
تہران کی معیشت کو اب افراطِ زر اور شدید کساد بازاری کا خدشہ ہے جو کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر توانائی کے مقاصد کے لیے ہے۔
پاسدارانِ انقلاب ایران نے 1982 میں حزب اللہ قائم کی جس نے ایرانی حمایت یافتہ "محورِ مزاحمت" کی سربراہی کی اور 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے پر فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل پر حملے کیے۔ لبنان کی حکومت نے اسے اور تمام غیر ریاستی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا عہد کیا ہے۔
اگرچہ گروپ نے جو بیروت میں ایک سیاسی قوت بھی ہے، ملک کے جنوب میں اپنے ذخائر ضبط کرنے میں لبنانی فوجیوں کے لیے کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی لیکن اس نے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔
ہرلی نے شرقِ اوسط کے اولین سفر میں حکومتی عہدیداروں، بینکاروں اور نجی شعبے کے سربراہان سے ملاقاتوں میں ایران کے خلاف کیس پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا، "حالانکہ ایران ہر مشکل سے گذر رہا ہے اور اس معیشت اچھی حالت میں نہیں ہے لیکن وہ ہنوز اپنی دہشت گرد پراکسیز کو بہت زیادہ رقم فراہم کر رہے ہیں۔"
-
تہران امن کا خواہاں ہے لیکن اسے جھکایا نہیں جاسکتا: ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ایران امن کا خواہاں ہے لیکن وہ ...
مشرق وسطی -
میکسیکو میں اسرائیلی سفیر کو قتل کرنے کا ایرانی منصوبہ ناکام رہا: امریکی حکام
امریکہ کے ایک ذمہ دار نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے میکسیکو میں ...
بين الاقوامى -
ایران شدید خشک سالی کے دہانے پر، صدر کا تہران خالی کرنے کا انتباہ
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کے روز ملک میں بڑھتے ہوئے خشک سالی کے خطرے پر ...
بين الاقوامى