اسرائیلی وزرا کی ٹیم غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی نگرانی کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی کابینہ برائے سیاسی و سیکورٹی امور (کیبنیٹ) نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے ایک چھوٹی وزارتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ٹیم میں جس کا کام معاہدے کے دوسرے مرحلے کو نافذ کرنا ہے، وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ، وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گوئیر، وزیر خارجہ جدعون ساعر، وزیر انصاف یارِیف لیوِن اور دیگر وزرا شامل ہیں۔ یہ بات اسرائیلی نشریاتی ادارے نے آج (جمعہ) کے روز بتائی۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایسی مختصر ٹیم بنانے کا بنیادی مقصد بند کمرے کے اجلاسوں سے معلومات کے اِفشا ہونے کو روکنا ہے۔
یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب معاہدے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد نئی مذاکرات کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ شامل تھا۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ نگرانی طے پانے والی جنگ بندی دس اکتوبر کو نافذ العمل ہو گئی تھی تاہم غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے مکمل طور پر نہیں رکے ہیں۔

ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مسلسل دھمکی دیتے آ رہے ہیں کہ اگر بین الاقوامی استحکام فورس نے حماس کو غیر مسلح نہ کیا، تو اسرائیل یہ کام خود کرے گا۔ اس فورس کے آئندہ ماہ غزہ کی تباہ شدہ پٹی میں پہنچنے کی توقع ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ کی امن منصوبہ بندی میں غزہ کے لیے ایک شہری انتظامیہ کے قیام کی شق موجود تھی، جو آزاد فلسطینی شخصیات پر مشتمل ہو اور حماس تنظیم کے اثر سے باہر ہو۔

اسی منصوبے میں ایک کثیر القومی بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی بھی شامل تھی، جو سیکورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالے۔ اس فورس میں مصر، ممکنہ طور پر قطر، نیز انڈونیشیا، آذربائیجان اور ترکیہ جیسے ممالک کی شمولیت کا ذکر تھا۔ تاہم اسرائیل نے ترک افواج کی شرکت کو مسترد کر دیا تھا۔

امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فوج کا ان علاقوں سے انخلا بھی شامل ہے جن پر وہ اب بھی غزہ کی پٹی میں قابض ہے۔ تاہم اس انخلا کے لیے کوئی ٹائم لائن مقرر نہیں کی گئی۔ اس کے ساتھ حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

تاہم حماس تنظیم کے مطابق اسلحہ سے متعلق یہ مسئلہ صرف اندرونی فلسطینی قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے، جو اب بھی ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں