اگرچہ لبنان نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے جو اسرائیلی حملوں کو روک سکے اور مقبوضہ زمینیں واپس کرے، تاہم اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
لبنانی سرکاری ذرائع کے مطابق آج ہفتے کے روز مشرقی زوطر اور النبطیہ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
اسی طرح شقرا قصبے اور بنت جبیل میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں 5 افراد زخمی ہوئے۔
ان حملوں سے چند گھنٹے قبل لبنانی صدر جوزف عون نے جمعے کی شام یوم آزادی کی تقریر میں کہا تھا کہ ریاست کسی بھی معاہدے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے جو اسرائیلی حملے روکے۔
أرقام رسمية لبنانية: 5 إصابات في بلدة شقرا بقضاء بنت جبيل جراء غارة بمسيرة إسرائيلية #العربية_عاجل #قناة_العربية pic.twitter.com/UJ8cGFhngc
— العربية (@AlArabiya) November 22, 2025
صدر نے کہا کہ لبنانی فوج خود جنوب ليطانی پر مکمل کنٹرول کے لیے تیار ہے اور پانچ ایسے مقامات بھی سنبھالنے کے لیے تیار ہے جو اسرائیل کے زیر قبضہ ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ لبنان امن کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔ اس پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی کام کر رہی ہے جس میں امریکہ، فرانس، لبنانی و اسرائیلی فوجوں کے علاوہ یونیفل فورسز کے نمائندے شامل ہیں۔
لبنانی فوج کمیٹی کی ہدایات اور اسرائیل کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق حزب اللہ کے مقامات اور ہتھیاروں کے ذخائر تک پہنچتی ہے اور یونیفل کے تعاون سے ہتھیار تلف کیے جاتے ہیں۔
فائر بندی امریکی ثالثی سے طے پائی تھی اور 25 نومبر 2024 کو حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک سالہ جنگ ختم ہوئی۔ اس کے بعد سے لبنانی فوج نے جنوب میں اپنی موجودگی بڑھائی ہے اور اب وہاں نو ہزار سے زائد اہل کار تعینات ہیں، تاہم اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں۔