جنوبی لبنان میں اسرائیل کا نیا فضائی حملہ ، ایک ہلاک اور پانچ زخمی

لبنانی صدر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریاست کسی بھی معاہدے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے جو حملوں کو روک سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اگرچہ لبنان نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے جو اسرائیلی حملوں کو روک سکے اور مقبوضہ زمینیں واپس کرے، تاہم اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

لبنانی سرکاری ذرائع کے مطابق آج ہفتے کے روز مشرقی زوطر اور النبطیہ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

اسی طرح شقرا قصبے اور بنت جبیل میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں 5 افراد زخمی ہوئے۔

ان حملوں سے چند گھنٹے قبل لبنانی صدر جوزف عون نے جمعے کی شام یوم آزادی کی تقریر میں کہا تھا کہ ریاست کسی بھی معاہدے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے جو اسرائیلی حملے روکے۔

صدر نے کہا کہ لبنانی فوج خود جنوب ليطانی پر مکمل کنٹرول کے لیے تیار ہے اور پانچ ایسے مقامات بھی سنبھالنے کے لیے تیار ہے جو اسرائیل کے زیر قبضہ ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ لبنان امن کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔ اس پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی کام کر رہی ہے جس میں امریکہ، فرانس، لبنانی و اسرائیلی فوجوں کے علاوہ یونیفل فورسز کے نمائندے شامل ہیں۔

لبنانی فوج کمیٹی کی ہدایات اور اسرائیل کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق حزب اللہ کے مقامات اور ہتھیاروں کے ذخائر تک پہنچتی ہے اور یونیفل کے تعاون سے ہتھیار تلف کیے جاتے ہیں۔

فائر بندی امریکی ثالثی سے طے پائی تھی اور 25 نومبر 2024 کو حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک سالہ جنگ ختم ہوئی۔ اس کے بعد سے لبنانی فوج نے جنوب میں اپنی موجودگی بڑھائی ہے اور اب وہاں نو ہزار سے زائد اہل کار تعینات ہیں، تاہم اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں