یاسرعرفات کو اس کے قریب ترین لوگوںنے دھوکے سے زہر دیا :محافظ کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

میجر جنرل محمد الدایہ، فلسطینی صدر یاسر عرفات کے ذاتی محافظ تھے، انھوںنے پہلی بار سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات کے قتل سے متعلق نہایت اہم اور تاریخی معلومات سے پردہ اٹھایا ہے۔

انہوں نے ''مز یج '' نیٹ ورک سے خصوصی گفتگو میں تصدیق کی کہ ابو عمار کی وفات ایک ''دوائی'' کے ذریعے دیئے گئے زہر کا نتیجہ تھی۔

اسی طرح انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ ابو عمار کے قریبی لوگوں کی طرف انگلیاں اٹھتی ہیں ۔انہوں نے پیش آنے والے واقعے کو ''سازش '' قرار دیا۔

خفیہ ملاقاتیں

پوڈکاسٹ'' سات کے بعد '' جو العربیہ نیٹ ورک کے تحت چلنے والے مزیج پلیٹ فارم پر نشر ہوا، الدایہ نے ان خفیہ اجلاسوں اور ملاقاتوں کا انکشاف کیا، جو عرفات نے تل ابیب اور غزہ میں اہم اسرائیلی حکام کے ساتھ کی تھیں، جن میں سابق وزیرِاعظم ایہود باراک بھی شامل تھے۔

اس کے علاوہ دو حصوں میں نشر ہونے والی اس گفتگو میں اوسلو معاہدے پر دستخط کے پس پردہ معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔

الدایہ نے اُس وقت پھیلنے والی اُن خبروں کی تردید کی کہ مصر کے مرحوم صدر حسنی مبارک نے دستخط کے دوران عرفات کو گالیاں دی تھیں۔

انہوں نے ابو عمار اور حماس کے درمیان تعلقات کی نوعیت پر بھی بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی کہ مرحوم فلسطینی رہنما نے اس تحریک کی حمایت کی اور اسے معاونت فراہم کی۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صدرِ فلسطینی اتھارٹی یاسر عرفات 11 نومبر 2004 کو پیرس کے قریب پیرسی فوجی اسپتال میں وفات پا گئے تھے۔ ان کی طبی حالت اکتوبر کے آخر میں اچانک بگڑ گئی تھی، جب کہ وہ 2002 سے اسرائیلی محاصرے کے دوران رام اللہ میں اپنے ہیڈکوارٹر میں محصور تھے۔جہاں تک وفات کے سبب کا تعلق ہے، یہ آج تک بڑا تنازعہ بنا ہوا ہے۔

فرانسیسی طبی رپورٹس میں موت کی وجہ شدید دماغی خون ریزی اور خون کے نظام میں خرابیوں کو قرار دیا گیا، جبکہ کئی فلسطینی ذرائع نے زہر دینے کے امکان کا ذکر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں