صبح کے وقت اسرائیل کی دوبارہ " القنیطرۃ" کے دیہی علاقے میں پیش قدمی
تین ٹینک اور ہمر گاڑیاں تل ابو قبیس کے بلند حصے پر پہنچ گئیں
پیر کو اسرائیلی فورسز القنیطرۃ کے جنوبی دیہی علاقے میں تل ابو قبیس میں دوبارہ داخل ہوئیں۔
تین ٹینک اور ہمر گاڑیاںتل ابو قبیس پر پہنچ گئیں
شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی ''سانا'' نے القنیطرۃ میں بتایا کہ ایک اسرائیلی دستہ، تین ٹینکوں اور دو ہمر گاڑیوں کے ہمراہ تل ابو قبیس کے بلند حصے تک پہنچ گیا، جو القنیطرۃ کے جنوبی دیہی علاقے میں واقع قريۃ عين زيوان کے مضافات میں ہے۔
یہ پیش قدمی اس کے بعد ہوئی جب پیر کی صبح اسرائیلی فورسز نے قريۃ صيدا الحانوت کے مغربی جانب اور القنیطرۃ کے جنوبی دیہی علاقے میں الدوايۃ کے مغربی کنارے کی طرف بھی پیش قدمی کی۔
پیر کو ایک فوجی دستہ، تین گاڑیوں پر مشتمل، شامی گاؤں میں تعینات ہوا۔ اس کےساتھ ہی ایک ڈرون طیارہ صيدا الحانوت کے اوپر پرواز کرتا رہا تاکہ علاقے کی نگرانی کی جا سکے، جیسا کہ ''سانا'' نے رپورٹ کیا۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے القنیطرۃ میں برج کے مقام سے دو ٹینک الحمیدیہ کے مقام کی طرف منتقل کیے، جو القنیطرۃ کے شمالی دیہی علاقے میں ہیں۔
اتوار کو بھی اسرائیلی فورسز نے القنیطرۃ کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں پیش قدمی کی اور پیدل چلنے والوں کی تلاشی کے لیے دو چیک پوسٹ قائم کیں۔
یہ کارروائی اس کے بعد ہوئی جب گزشتہ جمعہ کی صبح اسرائیلی حملے میں جنوب شام کے شہر بیت جن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 13 اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوجی دستہ بھی گاؤں میں داخل ہوا۔
شامی وزارت خارجہ کے سٹریٹیجک محقق عبیدۃغضبان نے اتوار کو کہا کہ اسرائیل نے 8 دسمبر 2024 کے بعد سے ایک ہزار سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سابقہ شامی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوبی شام میں فوجی دستے اور سازوسامان تعینات کر دیے اور 1974 کی طے شدہ غیر فوجی زون کو عبور کر دیا، جس میں جبل الشیخ پر اسٹریٹجک نگرانی کا مقام بھی شامل ہے۔
شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان امریکی ثالثی میں چھ مذاکرات کے بعد بھی کوئی سلامتی معاہدہ نہیں ہوسکا، جو علاقے میں استحکام کے لیے ضروری تھا۔ مذاکرات ستمبر 2025 کے بعد رک گئے ہیں۔
اسرائیل نے نئی شامی حکومت کے بارے میں گہری تشویش ظاہر کی ہے، جس کی قیادت صدر احمد الشرع کر رہے ہیں،اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے جنوبی شام کو ہتھیاروں سے پاک رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔تاہم الشرع نے اس امکان کو مسترد کیا اور کہا کہ شام کسی بھی خطے یا دنیا کی کسی ریاست کے لیے خطرہ نہیں ہے۔