قتل کس نے کیا؟ یاسر ابو شباب کون تھا؟

ابو شباب فلسطینی پٹی کے جنوب میں رفح کے مشرق میں ایک مسلح گروہ کی قیادت کرتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینی غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح شہر میں یاسر ابو شباب پر حملہ کیا گیا جس میں ان کی موت ہوگئی۔ حملہ آور کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آئی ہیں۔

اسرائیلی فوجی ذرائع نے انکشاف کیا کہ یاسر ابو شباب اپنے ایک ساتھی کے ساتھ جھڑپ کے دوران زخمی ہوئے اور انہیں جنوبی اسرائیل کے ایک ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ یہ اسرائیلی آرمی ریڈیو نے رپورٹ کیا۔

دیگر ذرائع نے حماس کے عناصر کے گھات لگا کر حملے میں ان کی ہلاکت کی طرف اشارہ کیا۔ دیگر خبروں میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ کے دوران ان کی موت کا ذکر کیا گیا۔ تاہم فوجی ذرائع نے اسرائیلی آرمی ریڈیو کو بتایا کہ اندازے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انہیں اندرونی تنازعہ کے تحت ان کے اپنے ایک آدمی نے ختم کیا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ ابو شباب کی ہلاکت اسرائیل کے لیے ایک برا موڑ ہے۔ اپنی طرف سے ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے وضاحت کی کہ ابو شباب کی ہلاکت کی رپورٹس کی تحقیقات جاری ہیں، وہ رفح کے مشرق میں ایک مسلح گروپ کی قیادت کرتے تھے اور حماس کی شدید مخالفت کے لیے جانے جاتے تھے۔

یاسر ابو شباب کون تھا؟

وہ بدو ملیشیا کے رہنما تھے جو پٹی کے جنوب میں حماس کے خلاف کام کرتے تھے اور حماس کے لیے ایک اعلان کردہ ہدف تھے۔ انہوں نے گزشتہ سال رفح کے مشرق میں ایک مسلح فورس کی قیادت کی جو اسرائیل کے ساتھ جزوی ہم آہنگی کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کرتی تھی۔ ابو شباب کا تعلق بدو قبیلے "الترابین" سے تھا اور وہ غزہ میں مجرمانہ خلاف ورزیوں کے سلسلے میں جیل کی سزائیں کاٹ چکے تھے۔

سات اکتوبر 2023 کی جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا اور مختصر وقت میں انہوں نے "القوات الشعبیۃ" (عوامی افواج) کے نام سے ایک مسلح ملیشیا کی بنیاد رکھی جو بنیادی طور پر رفح کے مشرقی علاقے میں سرگرم تھی۔ ان کی قیادت میں ملیشیا میں درجنوں مسلح افراد شامل ہوئے جن میں فلسطینی سکیورٹی اداروں کے سابق اہلکار اور مقامی نوجوان بھی شامل تھے۔

لیکن انہوں نے خود کو ایک شہری قوت کے طور پر پیش کیا جس کا مقصد نظم و نسق قائم کرنا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ ان کی سرگرمیوں میں عملی طور پر گرفتاریاں، چیک پوائنٹس اور بعض اوقات فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا استعمال بھی شامل تھا۔ اسی طرح ان کے ایک قریبی ذریعہ نے پہلے تصدیق کی تھی کہ ان کے گروپ نے پرکشش تنخواہوں کی پیشکش کر کے سینکڑوں جنگجوؤں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔

اسرائیل کا ہتھیار جو ختم ہو گیا

یاد رہے حماس یاسر ابو شباب پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے اور امداد لوٹنے کا الزام لگاتی رہی ہے جس سے انہوں نے انکار کیا تھا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ حماس کے عناصر کو پٹی سے نکالنے اور تحریک کے اختیار کو کمزور کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو دیے گئے سابقہ بیانات میں واضح کیا تھا کہ ان کے گروپ کی تشکیل حماس کی جانب سے انسانی امداد کی چوری اور انہیں بازاروں میں بیچنے اور باقی ماندہ کو اپنے عناصر اور ان کے خاندانوں میں تقسیم کرنے کو دیکھنے کے بعد ہوئی لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کے ظلم کے تابع نہیں ہوں گے اور "القوات الشعبیۃ" کے نام سے ایک متبادل تنظیم قائم کریں گے۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ اس تنظیم کی تشکیل کے مقاصد صرف مسلح پہلو تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں سکیورٹی اور شہری ادارے قائم کرنا بھی شامل ہے۔

اسرائیلی رپورٹس کے مطابق اسرائیل ابو شباب کی کامیابی پر بھروسہ کر رہا تھا کہ وہ حماس کی مخالفت کرنے اور ضرورت پڑنے پر اس کے عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید غزہ کے باشندوں کو بھرتی کریں گے اور وہ انہیں سامان اور فنڈز سے بھی مدد فراہم کر رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں