ایران : خاتون کی پھانسی روک دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں ایک خاتون کو اپنے شوہر کے قتل کے سلسلے میں دی جانے والی پھانسی کی سزا پر عمل روک دیا گیا ہے۔ خاتون کو لواحقین نے معاف کر دیا ہے۔ اس لیے ایرانی عدالت نے پھانسی پر عمل روکنے کا اعلان کیا۔

گولیکوہکن ایک بلوچ اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ خاتون کے پاس دستاویزات بھی موجود نہیں۔ اسے قتل کے جرم میں اسی ماہ پھانسی دی جانے والی تھی۔ جس پر بین الاقوامی سطح پر کافی شور مچا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے نے پچھلے ہفتے ایران پر دباؤ ڈالا کہ خاتون کو پھانسی نہ دی جائے۔ اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ اس کو جبری شادی پر مجبور کیا گیا تھا اور وہ اپنے شوہر کی طرف سے جبر و تشدد کا سامنا کرتی آئی۔

تاہم اب مقتول کے لواحقین نے اسے معاف کر دیا ہے۔ جس کی روشنی میں عدالت نے اپنی میزان آن لائن ویب سائٹ پر سزا روکنے کا اعلان کر دیا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق خاتون کو سزا میں یہ معافی مشروط طور پر ملی ہے۔ اس کے لیے خاتون کو دیت کی رقم ادا کرنا ہوگی جو کہ ایران میں نافذ العمل شریعہ قانون کا تقاضا ہے۔

خاتون کے وکیل نے 'انسٹاگرام' پر لکھا ہے کہ دیت کی یہ رقم تقریبا ایک لاکھ یورو کے برابر ہے جسے اب تک بھگتی جانے والی سزائے قید کی وجہ سے کم کر کے 80 ہزار یورو کر دیا ہے۔ تاہم ایرانی عدالت کی ویب سائٹ پر دیت کی رقم کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

ناروے میں قائم ایک این جی او نے بھی اس خاتون کے حق میں آواز بلند کی۔ این جی او کے مطابق خاتون کے خلاف مقدمہ امتیاز کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا اور یہ غیر انسانی رویہ تھا کہ خاتون کو تشدد سے گزرنا پڑا۔

یاد رہے رواں سال کے دوران 40 خواتین کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ ایران ان ملکوں میں شامل ہے جیاں قتل کے جرم میں سزائے موت دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ایران میں سزائے موت پانے والوں کی تعداد نمایاں ترین ملکوں میں شامل ہے۔

اس خاتون کو مئی 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے علاوہ قتل میں معاونت کرنے والے اس کے کزن کو بھی سزائے موت سنائی گئی تھی ۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ چین کے بعد ایران میں سب سے زیادہ پھانسی کی سزا سنائی دی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں