سقوطِ قذافی کے بعد پہلی بار لیبیا کے السرائے الحمراء میوزیم کو عوام کے لیے کھول دیا گیا
نیشنل میوزیم کی بحالی لیبیا میں ادارہ سازی کی زندہ مثال قرار
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں قومی میوزیم کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے جو ماضی میں السرائے الحمراء کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس اقدام کے بعد عوام کو ملک کے چند شاندار تاریخی خزانوں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے جو معمر قذافی کے تختہ الٹنے والی انقلاب کے بعد پہلی بار ممکن ہوا ہے۔
یہ میوزیم لیبیا کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے جسے سنہ 2011ء میں اس انقلاب کے دوران بند کر دیا گیا تھا۔۔ معمر قذافی نے طویل عرصے تک ملک پر حکمرانی کی اور ایک موقع پر اسی میوزیم کی فصیل کے قریب آتشیں خطاب بھی کیا تھا۔
میوزیم کی تزئین و آرائش کا آغاز طرابلس میں قائم حکومت قومی کی جانب سے مارچ سنہ 2023ء میں کیا گیا۔ یہ حکومت سنہ 2021ء میں اقوام متحدہ کی حمایت سے شروع ہونے والے سیاسی عمل کے نتیجے میں اقتدار میں آئی تھی۔
قومی حکومت کے وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ نے گذشتہ جمعے کو دوبارہ افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی میوزیم کی بحالی محض ایک ثقافتی لمحہ نہیں بلکہ اس بات کی زندہ شہادت ہے کہ لیبیا اپنے ادارے تعمیر کر رہا ہے۔
میوزیم کی نمائش گاہوں کا مجموعی رقبہ دس ہزار مربع میٹر ہے۔ یہ عمارت اسی کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی جہاں موزائیک فن پارے دیواری نقش و نگار مجسمے سکے اور نوادرات رکھے گئے ہیں جو ماقبل تاریخ سے لے کر رومی یونانی اور اسلامی ادوار تک لیبیا کی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں۔
اس مجموعے میں ایسی حنوط شدہ لاشیں بھی شامل ہیں جو ہزاروں سال پرانی ہیں۔ یہ لاشیں قدیم انسانی آبادیوں سے تعلق رکھتی ہیں جو جنوبی لیبیا کے علاقے جبال اکاکوس اور مصر کی مشرقی سرحد کے قریب واقع الجغبوب میں آباد تھیں۔
میوزیم کی ڈائریکٹر فاطمہ عبداللہ احمد نے خبر رساں ادارے "رائٹرز" کو بتایا کہ فی الحال پروگرام کا محور یہ ہے کہ سکولوں کو میوزیم کے دورے کا موقع دیا جائے تاکہ باضابطہ طور پر عوام کے لیے کھولنے سے قبل طلبہ استفادہ کر سکیں۔
محکمہ آثار قدیمہ کے چیئرمین محمد فرج الشکشوکی نے افتتاح سے قبل رائٹرز کو بتایا کہ قذافی حکومت کے سقوط کے بعد لیبیا سے اسمگل کی جانے والی اکیس نوادرات واپس حاصل کر لی گئی ہیں جن میں زیادہ تر فرانس سوئٹزرلینڈ اور امریکہ سے لائی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپین سے مزید بیس سے زائد نوادرات کی واپسی کے لیے بات چیت جاری ہے جبکہ آسٹریا سے بھی کچھ نوادرات کی واپسی متوقع ہے۔
سنہ 2022ء میں لیبیا نے امریکہ سے نو تاریخی نوادرات وصول کیے جن میں جنازہ جاتی پتھریلے سر جار اور مٹی کے برتن شامل تھے۔
لیبیا میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم سائنس اور ثقافت یونیسکو کے عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل پانچ مقامات موجود ہیں۔ لیبیا کا کہنا ہے کہ عدم استحکام اور تنازع کے باعث ان پانچوں مقامات کو سنہ 2016ء میں خطرے سے دوچار عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
یونیسکو میں لیبیا کے وفد نے جولائی میں بتایا کہ سکیورٹی صورتحال میں بہتری کے بعد تاریخی شہر غدامس کو اس خطرے والی فہرست سے نکال دیا گیا ہے جو ان مقامات میں شامل تھا۔
-
شاہِ برطانیہ کی طرف سے 'خوشخبری': 2026 میں ان کا کینسر کا علاج کم ہو جائے گا
برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوئم جو شاہی ممانعت کے برعکس کینسر سے جنگ کے بارے میں کھل ...
بين الاقوامى -
ایران میں چار سالہ سوتیلی بیٹی کو قتل کرنے والی خاتون کو سزائے موت
عدلیہ نے کہا کہ ایران نے ہفتے کے روز ملک کے شمال مغرب میں ایک خاتون کو پھانسی دے ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کی ایک لاکھ ڈالر ویزا فیس کو امریکی ریاستوں نے عدالت میں چیلنج کر دیا
یہ اضافی مالی بوجھ غیر ملکی محنت کشوں کی قلت میں اضافہ کرے گا
بين الاقوامى