مقبوضہ مغربی کنارا : یہودی آباد کاروں کی طرف سے فلسطینی بچوں پر آنسو گیس کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مغربی کنارے میں دوسرے ملکوں سے لاکر بسائے گئے یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کے گھر پر حملہ کیا اور گھر میں موجود بچوں پر آنسو گیس کا استعمال کیا۔ نیز فلسطینی گھرانے کی پالتو بھیڑوں کو بھی ہلاک کر دیا۔

یہ بات فلسطینی اتھارٹی سے متعلق حکام نے منگل کے روز بتائی ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نو عمر بچوں کی پے در پے ہلاکتوں کے بعد یہودی آباد کاروں کا یہ تازہ ترین حملہ ہے جو فلسطینی خاندان کے گھر کو ٹارگٹ کر کے کیا گیا ہے۔

یاد رہے یہودی آبادکار مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو پے در پے اپنے حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے باغوں کو جلاتے ہیں اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے اسرائیلی فوج اور پولیس کی مدد بھی کہتے رہتے ہیں۔

ادھر اسرائیلی پولیس نے اس واقعے کے بعد کہا ہے کہ اس نے واقعے میں ملوث پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

یہودی آبادکاروں نے حملے دوران گھر کے ایک دروازے اور کھڑکی کو اکھاڑ دیا۔ آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ جس سے چار سال سے کم عمر تین بچے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ جنہیں بعد ازاں ہسپتال جانا پڑا۔

یہ بات عامر داؤد نے بتائی ہے جو فلسطینیوں پر حملوں کے واقعات کو جمع کرنے والے دفتر کے سربراہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہودی حملہ آور ایک فلسطینی کے بھیڑوں کے باڑے میں داخل ہوگئے۔ جہاں انہوں نے تین بھیڑوں کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا۔

اس واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی ویڈیو بھی ملی ہے جس میں پانچ یہودی آباد کاروں نے چہرے چھپانے کے لیے نقاب چڑھا رکھے تھے اور گہرے رنگوں کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ان میں سے کئیوں نے لاٹھیاں پکڑی ہوئی تھیں۔

ویڈیو میں انہیں گھر کے اندر داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے جو اونچی آواز میں چلا رہے تھے بالکل جانوروں کی طرح۔

ایک اور ویڈیو میں بھی نقاب پوش یہودی آبادکاروں کو دیکھا گیا ہے جو بھیڑوں کے باڑے پر حملہ آور تھے۔

بعد ازاں فلسطینی حکام نے ان واقعات کی تصاویر بھی شیئر کیں اور گاڑی کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹے ہوئے دکھائے اور گاڑی کا اگلا دروازہ بھی ٹوٹا ہوا دکھایا گیا۔ جبکہ خون میں لت پت بھیڑیں مری ہوئی نظر آئیں اور ان کی اون پر بھی خون بکھرا ہوا نظر آیا۔

عامر داؤد کے مطابق یہودی آبادکاروں کا یہ دوسرا حملہ ہے جو دو مہینوں سے کم عرصے میں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے یہودی آباد کار ایک منظم کارروائی کے طور پر کرتے ہیں اور مقصد فلسطینیوں کو نشانہ بنانا، ان کی پراپرٹیز کو نقصان پہنچانا اور ان کی زمینوں پر یہودی قبضے کو بڑھاوا دینا ہے۔

ماہ اکتوبر میں یہودی آباد کاروں نے زیتون کی فصل کاٹنے کے موسم میں بھی ایسے ہی حملے کیے اور ہر روز اوسطا 8 جگہوں پر حملے ریکارڈ کیے گئے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق دفتر نے یہودی آبادکاروں کے ان حملوں کا ریکارڈ 2006 سے رکھنا شروع کیا ہے۔ ماہ نومبر 2024 سے اب تک اس طرح کے 136 حملے کیے گئے۔

یاد رہے اسرائیل نے مغربی کنارے پر 1967 میں قبضہ کیا تھا۔ یہاں پر پانچ لاکھ یہودی بسائے گئے بعد ازاں مشرقی یروشلم میں دو لاکھ یہودی بسائے گئے۔

اسرائیلی حکومت میں کئی انتہا پسند اسرائیلی جماعتیں شامل ہیں جن کے وزراء کے پاس کئی اہم وزارتیں ہیں جو یہودی آبادکاروں کی سرپرستی کرتے ہیں۔

یہودی آبادکاروں کی سرپرستی کرنے والوں میں وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ اور وزیر داخلہ بین گویر بطور خاص شامل ہیں۔ نیتن یاہو کی موجودہ حکومت نے 19 نئی یہودی بستیوں کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں