یمنی حکومت کی جانب سے عسکری اتحاد کے اقدامات کا خیر مقدم اور ریاض کے تاریخی مواقف کی ستائش
حکومت نے جنوبی عبوری کونسل کی نقل و حرکت کو سیکورٹی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا
یمنی حکومت نے 'آئینی حکومت کی حمایت کے لیے قائم عکسری اتحاد" کے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ موقف اس محدود فضائی کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں متحدہ عرب امارات سے الفجیرہ بندرگاہ کے ذریعے مکلا بندرگاہ پہنچنے والی فوجی امداد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یمنی خبر رساں ایجنسی 'سبا' کے مطابق حکومت نے اس حوالے سے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔
یمنی حکومت سعودی عرب کے تاریخی اور غیر متزلزل موقف، یمن کی سکیورٹی اور استحکام میں اس کے مرکزی کردار، عرب اتحاد کی ذمے دارانہ قیادت اور عام شہریوں کے تحفظ، کشیدگی میں کمی اور مشرقی صوبوں کو دشمن ایجنڈوں کی بھینٹ چڑھنے سے بچانے کی مستقل کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ 'جنوبی عبوری کونسل' (ایس ٹی سی) کی جانب سے کی جانے والی یک طرفہ فوجی نقل و حرکت اور سرکاری دائرہ کار سے باہر اسلحہ و افواج کی آمد ایک سنگین سکیورٹی خلاف ورزی ہے۔ یہ عبوری مرحلے کے معاہدوں اور پُر امن کوششوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو شہریوں کی جان و مال اور ریاست کی وحدت کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ اس طرح کے اقدامات معاشی اصلاحات کے پہیے کو روکتے ہیں اور حکومت کی جانب سے خدمات کی بہتری اور عوامی مشکلات میں کمی کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اسی تناظر میں حکومتی بیان میں واضح کیا گیا کہ اس حساس مرحلے پر داخلی محاذ کو نقصان پہنچانا اور قومی کوششوں کو منتشر کرنا براہِ راست دہشت گرد 'حوثی ملیشیا' کے مفاد میں ہے اور اسے بغاوت کو طول دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بیان کے مطابق آج قومی صفوں میں اتحاد ایک ایسی عسکری اور سیاسی ضرورت ہے جس میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔
التحالف ينشر فيديو يوثق وصول السفينتين المحملتين بالأسلحة إلى ميناء المكلا#اليمن#قناة_العربية pic.twitter.com/3Jviqqr1nF
— العربية (@AlArabiya) December 30, 2025
متعلقہ دائرہ کار میں یمنی حکومت نے صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ڈاکٹر رشاد العلیمی کے فیصلوں کی بھرپور تائید کی ہے۔ ان فیصلوں میں سرفہرست پورے یمن میں 90 روز کے لیے ہنگامی حالت (اسٹیٹ آف ایمرجنسی) کا نفاذ اور مشرقی صوبوں میں ہونے والی خطرناک پیش رفت کے پیشِ نظر شہریوں کے تحفظ، ریاست کی خود مختاری اور اس کی قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات شامل ہیں۔
حکومت نے آج بروز منگل جاری کردہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ ہنگامی حالت کا اعلان آئین، عبوری مرحلے کے اصولوں اور نیشنل ڈیفنس کونسل کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ یہ ایک جائز آئینی اقدام ہے جو مسلح بغاوت کا مقابلہ کرنے، سول امن کے تحفظ اور ریاست کو افراتفری اور اداروں کی تباہی سے بچانے کے لیے نا گزیر ہو چکا تھا۔
مزید برآں حکومت نے 'جنوبی عبوری کونسل' سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حضرموت اور المہرہ کے صوبوں سے فوری اور غیر مشروط طور پر پیچھے ہٹ جائے اور تمام مقامات و فوجی کیمپ 'درع الوطن' مقامی حکام کے حوالے کر دے۔ حکومت نے کونسل پر زور دیا کہ وہ عبوری مرحلے کے معاہدوں کی پابندی کرے اور ایسی کسی بھی عسکری کارروائی یا کشیدگی سے باز رہے جو شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہو۔
یمنی وزارتِ خارجہ نے 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارا ملک پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، ہمیں مزید تقسیم کی نہیں بلکہ تعمیر و ترقی کی ضرورت ہے۔" انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنوبی عبوری کونسل اپنی حالیہ نقل و حرکت سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ وزارتِ خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ جنوبی عبوری کونسل نے اب تک کشیدگی کم کرنے کی اپیلوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
-
سعودی عرب کا کردار یمن کے بحران میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا : معمر الاریانی
یمنی وزیر اطلاعات کے مطابق ملک کا مستقبل نعرے بازی کی نذر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ...
بين الاقوامى -
عرب اتحاد کا یمن کی مُکلا بندرگاہ پر فضائی حملہ
یمن میں سعودیہ کے زیرِ قیادت عرب اتحاد نے ایک محدود فضائی حملے کا آغاز کیا جس میں ...
بين الاقوامى -
ریاست کی بحالی کی جنگ جاری رکھیں گے:یمنی وزارت دفاع
یمن میں امن و استحکام کے لیے سعودی کاوششوں کی ستائش
بين الاقوامى