شاہ سلمان کے زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ... یمن کے تحفظ کی کوششوں کا جائزہ

جنوبی عناصر کے اجلاس کا خیر مقدم اور غزہ کی صورت حال کے حل میں سعودی عرب کے کردار پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کی کابینہ نے آج خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت خطے کی تازہ صورت حال کا جائزہ لیا اور یمن کے برادر ملک میں امن و استحکام کے فروغ اور تمام فریقوں کے درمیان مکالمے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی غرض سے مملکت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں پر غور کیا۔ یہ بات آج جاری ہونے والے کابینہ کے بیان میں کہی گئی۔

کابینہ نے یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی کی اس درخواست کا ایک بار پھر خیرمقدم کیا جس میں انہوں نے تمام جنوبی دھڑوں کو ساتھ لے کر ریاض میں ایک جامع کانفرنس منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کا مقصد جنوبی مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے ایک واضح تصور سامنے لایا جا سکے اور جنوبی عوام کی جائز امنگوں کو پورا کیا جا سکے۔

اجلاس میں سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کو موصول ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کی تفصیلات سے بھی آگاہی حاصل کی گئی، جن میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، شام کے صدر احمد الشرع، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف شامل تھے۔ اس گفتگو کے دوران سعودی عرب اور متعلقہ ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و عالمی سطح پر پیش آنے والے حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کابینہ نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں غزہ کی پٹی میں انسانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی امدادی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن کے تحت فضائی، بحری اور زمینی پلوں کے ذریعے فلسطینی عوام کو امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات قیادت کی ہدایات پر مملکت کے اس تاریخی کردار کا تسلسل ہیں جس کے تحت مختلف حالات میں متاثرین کو امداد اور تعاون فراہم کیا جاتا رہا ہے، اور اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ فلسطین قیادت اور عوام دونوں کے دلوں میں ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھے گا۔

اسی تناظر میں کابینہ نے جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں سعودی عرب کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے اور ایک جامع ڈیجیٹل نظام کی تعمیر پر زور دیا جو قومی معیشت کی مسابقت بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ میں مدد گار ہو۔ یہ اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پائیدار معیشت قائم کی جا سکے، اور قومی پروگرام برائے ترقی شعبہ معلوماتی ٹیکنالوجی کی مدت کو 2030 تک بڑھانے کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے ریاض میں دنیا کے سب سے بڑے سرکاری ڈیٹا سینٹر منصوبے ہیگزاگون کے آغاز کو بھی سراہا، جسے اس شعبے میں مملکت کو عالمی مرکز بنانے کی جانب ایک اہم اسٹریٹجک قدم قرار دیا گیا، جو ڈیٹا کی خود مختاری، سلامتی، اختراع اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کو یقینی بنائے گا۔

اجلاس کے دوران کابینہ نے دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت کے خلاف تعاون کے لیے سعودی ریاستی سلامتی کی صدارت اور جمہوریہ زیمبیا کے سیکیورٹی و انٹیلیجنس ادارے کے درمیان مجوزہ معاہدے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ قومی معدنیات پروگرام کے قواعد و طریقہ کار، سعودی حکومت اور علاقائی مرکز برائے معیار و تعلیمی امتیاز کے درمیان ہیڈکوارٹر معاہدے، اور قومی کمیٹی برائے تعلیم، ثقافت اور سائنس کی تنظیم کی بھی منظوری دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں