اقوام متحدہ کے سابق ایلچی کے حوالے سے یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ امریکی صدر کی طرف سے تجویز کردہ غزہ بورڈ کے لیے اپنا تعاون پیش کریں گے۔ انہوں نے اس سلسلے میں جمعہ کے روز فلسطینی اتھارٹی کے عہدیدار سے رام اللہ میں ملاقات کی ہے اور غزہ کے لیے صدر ٹرمپ کی تجویز کردہ منصوبہ بندی اور غزہ کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ اگلے ہفتے کے دوران بھی اس غزہ بورڈ کے ارکان کا اعلان کریں گے۔ جو غزہ کی عبوری حکومت کے سے انداز میں کام کرے گا۔
اس متوقع بورڈ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے امن منصوبے کے اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے اسی منصوبے کے تحت 10 اکتوبر 2025 سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہے۔ تاہم اسرائیل کی طرف سے غزہ میں بمباری اور حملوں کے واقعات آئے روز کا معمول ہیں۔
امریکی صدر کے امن منصوبے کے تحت جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے کی امید ہے۔ تاہم ابھی اس سلسلے میں واضح اور ٹھوس علامات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اسرائیلی فوج نہ صرف یہ کہ غزہ سے انخلا سے انکاری ہے بلکہ غزہ کے لوگوں پر مسلسل بمباری کے واقعات کی مرتکب ہو رہی ہے۔
دوسری جانب حماس کو کچلنے کے لیے اسرائیلی فوج نے اپنے حامی گروپوں کی غزہ کی پٹی پر تشکیل کا کام تیز کر رکھا ہے جبکہ حماس نے بھی ان حالات میں اسلحہ سے دستبرداری سے واضح طور پر انکار کر رکھا ہے۔
اس صورتحال میں دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
غزہ بورڈ کے قیام سے دوسرے مرحلے کی طرف پیش قدمی کا امکان بڑھ جائے گا۔ جو اکتوبر 2025 سے اب تک التوا میں ہے۔
نکولے ملیڈینو جو کہ اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے سابق نمائندے ہیں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ غزہ بورڈ کے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے۔
جمعہ کے روز ان کی ملاقات حسین الشیخ سے ہوئی جس کا انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ کی صورت میں ذکر کیا ہے۔
دونوں ذمہ داروں نے غزہ کی پٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی طرف پیش رفت پر غور کیا۔
بتایا گیا ہے کہ سابق نمائندہ اقوام متحدہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کریں گے۔ تاکہ غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے چیزوں کو آگے بڑھایا جائے اور غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے پیش قدمی کر سکیں۔
اسرائیل کی طرف سے کسی بھی سطح پر حماس کی غزہ امور میں شمولیت کو مسترد کیا گیا ہے۔ جنگ سے پہلے حماس غزہ کی حکمران جماعت تھی۔ تاہم اب اسرائیلی فوج کی موجودگی میں حماس کئی علاقوں میں اپنی حکمرانی کو قائم نہیں رکھ سکی۔
سابق نمائندہ اقوام نے اس سے پہلے جمعرات کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے اعلیٰ مشیروں سے بھی یروشلم میں ملاقات کی تھی۔
اس موقع پر نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کا یہ واضح مؤقف ہے کہ حماس کو اسلحے سے دستبردار ہونا پڑے گا اور غزہ کو اسلحے سے پاک کیا جائے گا جیسا کہ امریکی صدر کے امن منصوبے میں کہا گیا ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر نے ملیڈینو کا غزہ بورڈ کے امکانی ڈائریکٹر کے طور پر ذکر کیا ہے۔
ملیڈینو ایک سابق بلغارین سیاستدان ہیں اور یروشلم میں اقوام متحدہ کے نمائندے کے طور پر 2015 سے 2020 تک کام کر چکے ہیں۔ انہیں اقوام متحدہ نے مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندہ مقرر کیا تھا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس غزہ بورڈ میں امریکی اتحادی ملکوں کے ارکان شامل ہوں گے جو فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی کے معاملات کی نگرانی کریں گے۔
سینیئر حماس عہدیدار باسم نعیم کا کہنا ہے کہ حماس توقع رکھتا ہے کہ اگلے فیز کا جلد آغاز ہوگا اور جلد سے جلد فلسطینیوں کی ایک ایسی باڈی تشکیل پائے گی جو انتظامات کو دیکھے گی۔
-
سعودی عرب کی جانب سے اہلِ غزہ کی مدد کے لیے نیا امدادی قافلہ
امدادی سامان میں غذائی اشیاء اور موسم سرما کے کپڑے شامل ہیں
مشرق وسطی -
سالِ نو کی خوشی میں غزہ میں فائرنگ کرنے والے اسرائیلی فوجی کو 20 دن قید کی سزا
فوج کے ترجمان کی جانب سے تردید
مشرق وسطی -
غزہ میں سردیوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا: جرمن ریڈ کراس
قابل علاج بیماریوں سے فلسطینیوں کی اموات پر تشویش، امداد بدستور ناکافی
مشرق وسطی