تل ابیب اور واشنگٹن نے ہنگامہ آرائی میں شرکت کے لیے "داعشیوں" کو بھیجا : تہران کا الزام

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق احتجاج کے آغاز سے اب تک 650 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف، میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے بد امنی کے دوران سکیورٹی فورسز کے ارکان اور عام شہریوں کے قتل میں حصہ لینے کے لیے داعش کے مسلح جنگجوؤں کو ملک میں بھیجا ہے۔ ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن نے موسوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور بنیامین نیتن یاہو کے زیرِ انتظام اسرائیل نے "داعش" کے دہشت گردوں کو بھیجا ہے اور "ان کرائے کے فوجیوں نے شہریوں اور سکیورٹی اہل کاروں کو قتل کیا ہے"۔

موسوی نے خبردار کیا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز داعش کے کسی بھی دہشت گرد یا ایجنٹ کو ان کے مقاصد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

پیر کی شام ایرانی دارالحکومت تہران میں احتجاج کی ایک نئی لہر دیکھی گئی، جبکہ مظاہرین نے ملک کے جنوبی صوبے فارس کے ایک قصبے مشکان میں سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔

دوسری جانب واشنگٹن نے امریکی اور ایرانی دہری شہریت رکھنے والوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ آرمینیا یا ترکیہ کے راستے ملک سے نکل جائیں۔

ناروے میں قائم تنظیم "ایران ہیومن رائٹس" نے پیر کو دعویٰ کیا کہ مظاہرین کے بیچ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 648 ہو گئی ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ یہ تعداد بڑھ سکتی ہے اور شاید چند ہزار تک پہنچ گئی ہو۔

تنظیم نے یہ بھی اشارہ کیا کہ انٹرنیٹ کی بندش "ان رپورٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے کی صلاحیت کو انتہائی پیچیدہ بنا رہی ہے"۔ تنظیم کے اندازے کے مطابق احتجاج کے آغاز سے اب تک حکام نے 10 ہزار افراد کو حراست میں لیا ہے۔

حکام نے حالیہ دنوں میں ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کے جواب میں ایرانی حکومت کی حمایت میں جوابی مظاہروں کی کال دی ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق تہران کے ایک مرکزی چوک میں ہزاروں افراد نے حکام کی حمایت اور احتجاج میں مارے گئے سکیورٹی اہل کاروں کے سوگ میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی۔

یہ مظاہرے 28 دسمبر کو تہران کے تاجروں کی جانب سے کرنسی کے تبادلے کی شرح میں گراوٹ اور قوتِ خرید میں کمی کے خلاف ہڑتال سے شروع ہوئے اور پھر پھیلتے چلے گئے۔ واضح رہے کہ ایران اب بھی اسرائیل کے ساتھ جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں