سعودی عرب ... موسم الشبط شدید سردی کی لہر لے کر آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب میں آج سے موسم سرما کا ایک نیا اور زیادہ سرد مرحلہ شروع ہو رہا ہے، جسے "موسم الشبط" کہا جاتا ہے۔ یہ موسم آج فلکیاتی اعتبار سے با ضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے، جس کے ساتھ درجہ حرارت میں نمایاں کمی، ہواؤں میں تیزی اور مختلف علاقوں میں موسمی اتار چڑھاؤ کی توقع کی جا رہی ہے۔

قصیم یونیورسٹی کے سابق پروفیسر برائے موسمیات ڈاکٹر عبداللہ المسند نے وضاحت کی کہ 15 جنوری سے موسم الشبط کا آغاز ہوتا ہے، جو 10 فروری تک جاری رہتا ہے۔ یہ موسم "مربعانیہ" کے فوراً بعد آتا ہے، جس کے بعد میں "موسم العقارب" شروع ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ موسم الشبط کی مدت 26 دن پر مشتمل ہوتی ہے اور اس کے قمری منازل کو "النعائم" اور "البلدہ" کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس موسم کا نام غالباً سریانی مہینے "شباط" سے ماخوذ ہے، جو عیسوی کیلنڈر کے مطابق فروری کے مہینے سے مطابقت رکھتا ہے۔

موسم الشبط میں درجہ حرارت میں واضح کمی دیکھی جاتی ہے، جبکہ صبح کے اوقات میں پالا اور دھند بننے کا امکان بھی رہتا ہے۔ اس دوران شمالی سمت سے چلنے والی سرد ہوائیں سرگرم رہتی ہیں، جنہیں مقامی طور پر "نسريۃ" کہا جاتا ہے۔ اسی موسم میں سورج کے طلوع ہونے میں سب سے زیادہ تاخیر اور فجر کے وقت کے داخل ہونے میں بھی نمایاں فرق ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وسطی جنوبی علاقوں کے بعض حصوں میں کھجور کے درختوں پر ابتدائی خوشے بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

ماہر موسمیات عبدالعزیز الحصینی نے کہا ہے کہ موسم الشبط خلیج کے خطے میں عملاً موسمِ سرما کا دوسرا مرحلہ ہوتا ہے اور عوامی طور پر اسے "برد البطین" کہا جاتا ہے، جو اس کی شدید سردی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے مشہور ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موسم الشبط کے ہر ستارے کی مدت 13 دن ہوتی ہے اور قدیم عرب اسے "مقرقع البيبان" کے نام سے بھی یاد کرتے تھے، جس کا مطلب ہے دروازے ہلا دینے والی تیز ہوائیں۔

موسم الشبط صحرا اور برّی سیاحت کے شوقین افراد کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

قومی مرکز برائے موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آج جمعرات کے روز تبوک، الجوف، شمالی سرحدی علاقوں، حائل، ریاض، قصیم اور مشرقی صوبے کے بعض حصوں میں موسم سرد سے شدید سرد رہنے کا امکان ہے۔

مرکز کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ، مکہ المکرمہ، ریاض اور مشرقی صوبوں کے بعض علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش ہو سکتی ہے، جبکہ رات اور علی الصبح دھند بننے کا بھی امکان ہے۔

قومی مرکز نے سطحی ہواؤں میں تیزی سے خبردار کیا ہے، جو گرد و غبار اٹھا سکتی ہیں اور افقی حد نگاہ کو متاثر کر سکتی ہیں، خاص طور پر ریاض اور مشرقی صوبے کے کچھ حصوں میں۔ ان ہواؤں کے اثرات نجران، مکہ المکرمہ، مدینہ منورہ اور تبوک تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں