اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ برنیا جمعے کی صبح امریکہ پہنچ گئے جہاں وہ ایران کی صورت حال پر بات چیت کریں گے۔ یہ بات اسرائیلی ذرائع اور اجلاس سے با خبر ایک ذریعے نے بتائی۔
امریکی ویب سائٹ axios کے مطابق توقع ہے کہ برنیا میامی میں امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے ملاقات کریں گے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ ہفتے کے آخر میں مارالاگو ریزورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔
برنیا کا یہ دورہ بدھ کے روز ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران کے حوالے سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ہو رہا ہے۔
اس کال کے دوران نیتن یاہو نے ٹرمپ سے تہران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو مؤخر کرنے کی درخواست کی تاکہ اسرائیل کو کسی بھی ممکنہ ایرانی رد عمل کے لیے تیاری کا مزید وقت مل سکے۔
رد عمل کے خدشات کے علاوہ، موجودہ امریکی منصوبے میں ایران میں سکیورٹی فورسز کے اہداف پر ضربیں لگانا شامل ہے، لیکن اسرائیلی ذریعے کے مطابق اسرائیل انہیں حکومت کو حقیقی طور پر غیر مستحکم کرنے کے لیے کافی مضبوط نہیں سمجھتا۔
واضح رہے کہ امریکی حکام کے مطابق اگر ایران نے "مظاہرین کا قتل" دوبارہ شروع کیا تو فوجی کارروائی کا آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔ جبکہ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ تاخیر کے باوجود آنے والے دنوں میں امریکی فوجی حملہ کیا جا سکتا ہے۔
-
موساد کے ایجنٹ کے طور پر لبنانیوں کو اغوا کرنے میں ملوث چار ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت
لبنان کے سیکیورٹی اداروں کے زیر حراست چار ایسے ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ...
مشرق وسطی -
ایران کا موساد سے وابستہ نیٹ ورک توڑنے اور دو افراد گرفتار کرنے کا اعلان
ایران نے صوبہ شمالی خراسان میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد سے وابستہ ہونے کے ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی انٹیلی جنس ادارہ موساد ایران میں احتجاج کرنے والوں کی پشت پناہی کے لیے آگے آگیا
اسرائیلی ریاست کے سب سے بڑے انٹیلی جنس ادارے موساد نے ایران کے احتجاجی مظاہرین کو ...
مشرق وسطی