لبنانی نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ایک اسرائیلی ٹینک نے لبنانی فوج اور اقوامِ متحدہ کی امن مشن فورس 'یونیفیل' کی مشترکہ ٹیم کے اطراف فائرنگ کی ہے۔ ایجنسی کے مطابق لبنانی فوج کی ایک ٹیم جب وادی العصافیر کے قریب یونیفیل کے ساتھ مشترکہ فیلڈ مشن پر تھی تو اسے جنوبی علاقے ’’ الحمامص ‘‘ میں قائم ایک نئے اسرائیلی مورچے سے ٹینک کے ذریعے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی تناظر میں جمعہ کی سہ پہر جنوبی لبنان کے ضلع بنت جبیل کے قصبے عیترون کے مضافات میں لبنانی سرحد کے اندر جبل الباط میں قائم ایک نئے اسرائیلی مورچے سے مشین گنوں کے ذریعے فائرنگ کی گئی۔
مشرق میں ایک اسرائیلی ڈرون نے بعلبک بین الاقوامی شاہراہ پر مجدلون کے موڑ پر ایک کار کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح ایک اور اسرائیلی ڈرون نے بعلبک میں دار الامل ہسپتال کے قریب دورس قصبے پر حملہ کیا۔
یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جمعہ کی صبح اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے قصبے عیتا الشعب کے مضافات میں مشین گنوں سے سرچ آپریشن کیا ہے۔ لگ بھگ ایک سال کی خونی جھڑپوں کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ نے نومبر 2024 کے آخر سے جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا لیکن اسرائیل ان حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان حملوں کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ارکان اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیل کا الزام یہ بھی ہے کہ حزب اللہ اپنی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یاد رہے جنگ کے دوران حزب اللہ کی صلاحیتوں کو شدید نقصان ہوا ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کی پانچ تزویراتی پہاڑیوں پر اپنی افواج کو برقرار رکھا ہوا ہے جو امریکہ اور فرانس کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کی دفعات کے خلاف ہے۔