مدافعتی بڑھاپے میں انقلابی پیش رفت.. ایم آئی ٹی کے سائنس دانوں کی نئی دریافت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سائنس الرٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سائنس دان ایک ایسے نئے حیاتیاتی طریقۂ کار تک پہنچ گئے ہیں جو عمر بڑھنے کے ساتھ کمزور پڑتے مدافعتی نظام کی ازسرِنو تجدید کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ یہ دریافت مستقبل میں بڑھاپے کے مراحل میں جسم کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) اور ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ براڈ انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے تھائمس گلینڈ پر توجہ مرکوز کی جو دل کے سامنے واقع ایک چھوٹا سا عضو ہے اور ٹی خلیات (T cells) کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، جو مدافعتی نظام کی اہم ترین اکائیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

تحقیقی شواہد کے مطابق بلوغت کے آغاز کے بعد تھائمس گلینڈ بتدریج سکڑنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں ٹی خلیات کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ یہی خلیات بیماری پیدا کرنے والے جراثیم اور سرطانی خلیات کو پہچان کر ان پر حملہ کرتے ہیں اور ان کی کمی کو بڑھاپے میں مدافعتی کمزوری کی بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے محققین نے چوہوں پر کیے گئے تجربات میں جگر کے ایک حصے کو اس قابل بنایا کہ وہ تھائمس گلینڈ کا متبادل کردار ادا کرے۔ اس مقصد کے لیے جگر کو ایسے سالماتی سگنلز خارج کرنے پر آمادہ کیا گیا جو ٹی خلیات کی پیداوار کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔MIT سے وابستہ ماہرِ اعصابیات میرکو فریڈرک کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ مدافعتی نظام کی صلاحیت کم ہونے لگتی ہے، ہمارا مقصد یہ جاننا تھا کہ اس قدرتی حفاظتی نظام کو زیادہ عرصے تک کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

محققین نے ابتدا میں نوجوان اور بوڑھے چوہوں کے مدافعتی نظام کا تقابل کیا اور تین ایسے اہم سگنلنگ پروٹینز کی نشاندہی کی جن کی سطح عمر کے ساتھ کم ہو جاتی ہے، حالانکہ یہی پروٹینز ٹی خلیات کی تشکیل اور فعالیت کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں۔اسی بنیاد پر تحقیقاتی ٹیم نے میسنجر آر این اے (mRNA) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک علاج تیار کیا، جو پروٹینز بنانے کی ہدایات فراہم کرتا ہے۔

اس علاج کو بار بار عمر رسیدہ چوہوں کے جگر میں انجیکٹ کیا گیا، کیونکہ جگر بڑھاپے میں بھی پروٹینز بنانے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین کے مطابق جگر اس قسم کے علاج کے لیے ایک مثالی ہدف ہے، کیونکہ نظامِ ہاضمہ سے آنے والا بڑا حصہ خون کا جگر سے گزرتا ہے اور طبی لحاظ سے اس تک رسائی بھی نسبتاً آسان ہوتی ہے۔چار ہفتوں کے علاج کے بعدبوڑھے چوہوں میں ٹی خلیات کی تعداد اور اقسام میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ ویکسین کے خلاف بہتر مدافعتی ردِعمل اور سرطانی رسولیوں کے خلاف زیادہ مؤثر مزاحمت بھی سامنے آئی، جو اس بات کی علامت ہے کہ مدافعتی نظام نے جزوی طور پر نوجوانی جیسی کارکردگی بحال کر لی ہے۔

MIT کے ماہرِ اعصابیات فینگ ژانگ نے وضاحت کی کہ یہ طریقہ دراصل جسم کو مصنوعی انداز میں اس قابل بناتا ہے کہ وہ وہی مدافعتی عوامل خارج کرے جو کبھی تھائمس گلینڈ پیدا کرتا تھا۔

محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹی خلیات کی پیداوار میں یہ اضافہ وقتی تھا، جو ایک مثبت پہلو ہے، کیونکہ اس سے مدافعتی نظام کے حد سے زیادہ متحرک ہو جانے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، جو سوزش یا خودکار مدافعتی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

انسانی اطلاق کی جانب پہلا قدم

اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں تاہم تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور انسانوں میں اس کی افادیت اور محفوظ ہونے کی تصدیق کے لیے مزید مطالعات درکار ہیں۔ آئندہ مرحلے میں محققین مختلف جانوروں اور مدافعتی خلیات کی اقسام پر اس تحقیق کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ نیا طریقہ مستقبل میں انسانوں کی صحت مند زندگی کے دورانیے میں اضافہ کرنے میں مدد دے گا اور بڑھاپے کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر مدافعتی نظام کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں