شامی حکومت نے بشار دور کے افسران کی حوالگی کی درخواست نہیں کی : لبنانی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان اور شام کے درمیان متعدد معاملات، بشمول لبنانی جیلوں میں قید شامی قیدیوں کے معاملے پر رابطوں کے باوجود لبنانی وزیر انصاف عادل نصار نے تصدیق کی ہے کہ شامی حکومت نے با ضابطہ طور پر سابقہ نظام کے اہل کاروں کی حوالگی کی درخواست نہیں کی ہے۔

عادل نصار نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ "مغربی ممالک نے شامی نظام کے سابقہ اہل کاروں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ شام کی ریاست کی جانب سے کوئی سرکاری درخواست موصول نہیں ہوئی"۔

مزید برآں انہوں نے اشارہ کیا کہ شامی قیدیوں کے مسئلے پر رابطہ کاری جاری ہے اور بتایا کہ "تقریباً 300 شامی قیدی لبنان سے شام منتقلی کے معاہدے میں شامل ہیں"۔

دوسری جانب، لبنانی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ دمشق ان ہلاکتوں کے معاملے میں مدد کرے گا جو گذشتہ برسوں کے دوران لبنان میں سابقہ نظام نے کی تھیں۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ریاستِ لبنان "گرفتار اسلام پسندوں کے مقدمات چلانے میں تیزی لانے پر کام کر رہی ہے"۔ یہ ملک میں ایک پیچیدہ معاملہ ہے جو برسوں سے کھینچا تانی کا شکار رہی ہے۔

روئٹرز کی جانب سے چند ہفتے قبل سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق، شام کے تین اعلیٰ سطح کے ذرائع، لبنان کے دو سکیورٹی حکام اور ایک باخبر سفارت کار نے انکشاف کیا تھا کہ شامی حکام نے لبنانی سکیورٹی فورسز سے بشار الاسد کے زوال کے بعد لبنان فرار ہونے والے 200 سے زائد اعلیٰ افسران کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ شام کے اعلیٰ سکیورٹی اہل کار بریگیڈیئر جنرل عبدالرحمن الدباغ نے گذشتہ برس 18 دسمبر کو بیروت کے ایک مشہور ریسٹورنٹ میں لبنانی سکیورٹی قیادت سے ملاقات کی تھی تاکہ ان افسران کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ لبنانی صدر جوزف عون نے رواں ماہ 11 جنوری کو تصدیق کی تھی کہ فوج، انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اور دیگر سکیورٹی اداروں نے ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں چھاپے مارے ہیں، لیکن ان کے نتیجے میں اسد نظام سے وابستہ افسران کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان نے اس حوالے سے شام کے ساتھ رابطہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں