ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے پیر کے روز امید ظاہر کی ہے کہ شام میں امریکی مداخلت کے ذریعے ہونے والی جنگ بندی عملا نافذ رہے گی اور شام کی علاقائی سلامتی اور خود مختاری سے متعلق معاہدے کے نفاذ میں بھی تاخیر نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار شام کی سرکاری فوج اور کرد جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی کئی دنوں پر محیط جنگ کے بعد کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ہے۔ یہ معاہدہ کرد جنگجوؤں کے گروپوں نے شامی حکومت کے ساتھ کیا ہے۔
کابینہ کے اجلاس کے بعد ایردوآن نے کہا اس معاہدے سے شام کے لوگوں کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔
یاد رہے کرد قبائل شام کے ان علاقوں میں اثر رکھتے ہیں جو ترکیہ کے پڑوس میں واقع ہیں۔ انہیں امریکی حمایت یافتہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کی تھی۔
ادھر امریکہ نے داعش کے قید کردہ جنگجوؤں کو اب شام سے عراق منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔